اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 111
حضرت خلیفہ اصبح الرابع" کے مستورات سے خطاب خطاب ۳ راپریل ۱۹۸۸ء احمدیت کے نام پر پناہ لی اور احمدی قدروں کو پیچھے چھوڑ آئیں یا یہاں آکر بُری باتیں سیکھنی شروع کر دیں تو احمدیت کی پناہ سے تو نکل آئیں آپ یہ تو احمدیت بیچنے والی بات ہے۔یہ تو وہی بات ہے جو قرآن کریم نے لکھی ہے کہ خدا کی آیات کو ادنی ادنیٰ ذلیل قیمتوں پر نہ بیچو اور اللہ تعالیٰ اس بارہ میں قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے تعلق تو ڑ لیتا ہے جو دین کو بیچنے لگ جاتے ہیں تو پھر آپ کا وہاں سے نکلنا بھی بریکار ، آپ کا یہاں آنا بھی بریکار بلکہ نقصان دہ۔اُس سے بڑھ کر یہ کہ ایک آدمی نصیحت کرتا ہے اور آپ غصہ مناتی ہیں۔آپ بھر جاتی ہیں۔کہتی ہیں تم ہوتے کون ہو میری بچی پر انگلی اُٹھانے والے حالانکہ وہ بیچاری کہیں سے چل کر اپنے وقت کا نقصان یا اپنے وقت کی قربانی دے کر یہاں آئی آپ کے پاس آئی اور خالصہ للہ آپ کی نصیحت کی خاطر اس لئے اُس سے جب آپ بگڑتی ہیں تو خدا سے بگڑتی ہیں کیونکہ خدا کی خاطر آنے والے بندوں کے لئے خدا کے دل میں پیار کا مقام ہوتا ہے۔آپ کے نزدیک وہ معمولی بھی دکھائی دیں مگر جو خدا کی خاطر سفر کرتا ہے، جو خدا کی خاطر کسی بہن کے پاس جاتا ہے اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ کی نظر میں پیارا ہوتا ہے۔اس کی بے عزتی کرنا عملاً خدا کی بے عزتی ہے اور اس مضمون کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح کھول دیا ہے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔ایک موقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا اپنے بعض بندوں سے پوچھے گا کہ میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی، میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا، میں بدحالی میں مبتلا تھا تم نے میرا خیال نہیں رکھا، میں بغیر کپڑوں کے تھا تم نے مجھے کپڑے نہیں پہنائے اس قسم کا مضمون ہے۔بندہ تعجب سے پوچھے گا کہ اے خدا! تو تو ساری کائنات کا خالق ہے، ہر چیز تیری ہے ہم ادنی ذلیل بندوں سے ہو کیسے سکتا ہے کہ تجھے کچھ پلائیں ، تجھے کچھ کھلائیں، تیری خاطر کریں، تیرا خیال رکھیں۔تو اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ جب میرا بندہ بیمار تھا اور تو نے اُس سے بے پروائی کی تو مجھ سے بے پروائی کی ، جب میرا بندہ پیاسا تھا اور تو نے اُسے پانی نہیں پلایا تو مجھے پانی نہیں پلایا، جب میرا بندہ بھوکا تھا اور تو خود سیر ہوکر کھا تا رہا اور اس کی پرواہ نہیں کی تو تو نے میری پرواہ نہیں کی اور مجھے بھوکا رکھا۔(مسلم کتاب البر والصلۃ والادب) اب خدا اتنار من ورحیم ہے کہ اپنی عام مخلوقات، اپنے عام بندوں سے اس کا یہ تعلق ہے آپ اندازہ کریں اُس سے کیسا تعلق ہو گا جو اس کی خاطر خدمت کے لئے نکلا ہے۔چنانچہ اس مضمون پر اور