اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 81
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ΔΙ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء بھیا نک مظالم ہیں جو عورت پر روا ر کھے جاتے ہیں اور نتیجہ ایک ایسے ظلم کا آغاز ہوا جو ان مظالم کے نتیجہ میں ہو جانا چاہئے تھا۔یعنی ہندومت نے عورت کو یہ تعلیم دی کہ خاوند مر جائے تو تم بھی جل مرو۔اتنا درد ناک نقشہ ہوتا ہے ساری عمر دکھ اُٹھانے کا ایک ہندو بیوہ کا کہ اس کے بعد یہ تعلیم رحمت نظر آتی ہے کہ ساری عمر کے جو دکھ اُٹھانے ہیں تو بہتر ہے کہ ایک دفعہ ہی جل کر مر جاؤ ورنہ ساری زندگی جلتی رہوگی۔منوسمرتی جو عورت کے متعلق تعلیم دیتی ہے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔وارث یہ قرار نہیں پاتی اور اس کے علاوہ بعض ایسی بدرسمیں ہیں جن کا یہاں ذکر بھی مناسب نہیں۔چنانچہ اسی تعلیم سے متاثر ہوکر ہندو شاعر تلسی داس نے لکھا کہ : شودر ، ڈھول، مویشی اور عورت پیٹتے ہی رہیں تو ٹھیک رہتے ہیں۔“ بہر حال مذاہب کے اس مختصر موازنہ کے بعد اب میں تمدنی مواز نے کی طرف آتا ہوں۔تہذیبی موازنے کی طرف آتا ہوں۔اہل مغرب کو اپنی تہذیب پر ناز ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اہل مغرب کی تہذیب ، اسلامی تہذیب کے مقابل پر عورت کے لئے بہت ہی بہتر ہے اور چودہ سوسال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلب مطہر پر نازل ہونے والی تعلیم پر جو یہ اعتراض کرتے ہیں اس کے مقابل پر آج کل کی مغربی تہذیب کو رکھتے ہیں اور اس موازنے میں ان کو لذت محسوس ہوتی ہے کہ دیکھو آج جو کچھ ہم نے عورت کے متعلق کہا ہے چودہ سو سال پہلے تم لوگ اس سے واقف نہیں تھے۔گویا اس رنگ میں موازنہ پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اب میں آپ کے سامنے واقعات رکھتا ہوں جو اس دعویٰ کو کلیۂ جھٹلا دیتے ہیں۔چودہ سو سال پہلے اسلام نے عورت کے متعلق جو تعلیم دی تھی آج کے یورپ کو بھی اس تعلیم کے پاؤں چھونے تک کی توفیق نہیں مل سکی اور میں جب یہ دعوی کرتا ہوں تو اہل یورپ کی اپنی زبان میں ان حقائق کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جن کو جھٹلانے کا آج کسی کو حق نہیں ہے۔سے پہلے تو میں Northumberland and Tyneside Council of Social Services کی ایک رپورٹ کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں جو لکھتے ہیں کہ انگلستان میں ۱۹۱۵ء میں ایک قانون بنا اور وہ قانون ایک مجسٹریٹ کے فیصلے کی شکل میں ظاہر ہوا۔جس نے یہ فیصلہ دیا کہ خاوند اپنی لڑنے والی بیوی کو مار سکتا ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم نے پیش کی تھی اور جس پر