اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 82
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۸۲ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء یورپ نے اتنا واویلا مچایا۔لیکن قرآن کریم نے بعض شرطیں ساتھ رکھ کر اس تعلیم کی تلخی کو غائب کر دیا تھا۔مگر انہوں نے جو شرط رکھی یعنی انگلستان کے قانون میں ۱۹۱۵ء میں وہ یہ تھی کہ مار تو سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جس چھڑی سے مارے وہ مرد کے انگوٹھے کی موٹائی سے زیادہ نہ ہو کتنی دفعہ مارے، کہاں کہاں مارے، کہاں نہ مارے ، کیا کیا احتیاطیں کرے، کوئی اور ذکر نہیں اور آپ جانتے ہیں کہ یہاں جو زمیندار ہیں ان کے انگو ٹھے ہماری دو دو تین تین انگلیوں کے برابر ہوتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ بعض دفعہ دیکھو تو ہماری جو انگوٹھیاں الیس اللہ والی ہمیں آرام سے آجاتی ہیں درمیانی انگلی میں بڑی انگلی میں وہ جب تحفہ بعض دفعہ ان کو دینا پڑتا ہے تو ان کی چھنگلی میں بھی پوری نہیں آتی۔تو اتنی موٹی سوئی آرام سے بن جائے گی۔اس سے جتنا چاہو مارو۔یہ اس صدی کا ۱۹۱۵ء کا قانون ہے جو یہاں رائج ہوا تھا۔اور یہ قانون پھر اسی طرح جاری رہا ہے یہ تبدیل نہیں ہوا۔۱۹۷۰ء میں ابھی کل کی بات ہے پہلی دفعہ عورتوں نے ایک Domestic Violence کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا اور ایک ایسوسی ایشن بنائی اور اہل انگلستان کی تہذیب کو سکھانے کی کوشش کی ۱۹۷۰ء میں یہ پہلی دفعہ ان کی کوششوں کا آغاز ہوتا ہے اور ۱۹۷۳ء تک ان کوششوں کے کیا نیک نتائج ظاہر ہوئے تھے ان کے متعلق میں آپ کو Marital Violence: The Community Response ۱۹۸۳ء کی چھپی ہوئی اس کتاب سے ایک حوالہ پڑھ کر سناتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں Ashley نے ۱۹۷۳ء کے ایک سروے میں بتایا کہ برطانیہ میں ہر سال ۲۷ ہزار Serious Cases ہوتے ہیں جن میں مرد اپنے بیویوں کو مار کر زخمی کر دیتے ہیں۔یہ ۱۹۷۳ء کی عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی کوششوں کے نتیجہ میں جس حد تک معاشرہ کی اصلاح ہوئی تھی اس کا یہ نمونہ ہے۔ایک اور سروے سے معلوم ہوا کہ یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے بلکہ دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔علاوہ ازیں کہتے ہیں کہ اس تعداد کو بھی آخری شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کہتے ہیں ہمارا تاثر یہ ہے کہ اکثر عورتیں مار کھاتی ہیں اور خاموش رہتی ہیں کیونکہ وہ شرم محسوس کرتی ہیں کہ تحقیق کرنے والوں کو بتائیں کہ ہمارا خاوند ہم پر ہاتھ اُٹھاتا رہا ہے۔Parliamentary Select Committee On Violence In Marriage نے کہا ہے کہ اس وجہ سے اس قسم کی تعداد کا صحیح اندازہ کرنا بے حد مشکل ہے۔چنانچہ ایک اور رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ۱۹۷۷ء میں صرف Bristol کے علاقہ میں پانچ چھ ہزار کے قریب Cases پولیس رپورٹ کے مطابق درج ہوئے جن میں عورتوں نے یہ شکایت کی تھی کہ مردوں نے ہمیں ظالمانہ طور پر پیٹتا ہے۔