اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 684

۶۸۴ خطاب ۲۵ مراگست ۲۰۰۱ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات یسے بچے پیدا ہوئے تھے ان کی ماؤں نے مجھ سے سوال کیا کہ ان بچوں کا کیا بنے گا میں نے ان سے کہا ان بچوں کا قصور تو نہیں یہ تو جنتی ہیں مگر وہ جو ظالم ہیں وہ جہنمی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے رسول نے فرمایا ہے کہ سب بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے ہماری ماؤں کو بھی سوچنا چاہئے کہ بچے تو دین فطرت پر پیدا ہوں اور اگر بڑے ہوں آپ کی تربیت میں اور وہ یہودی یا نصرانی یا مجوسی بن جائیں تو اس میں بچوں کا قصور نہیں یہ سارا ماں باپ کا قصور ہو گا۔حضرت ایوب اپنے والد اور پھر اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولا د کو دے سکتا ہے۔ایک حدیث ہے حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنے دوست کے زیر اثر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک خیال رکھے کہ کسے دوست بنارہا ہے۔اب بچپن ہی سے بچوں کے دوستوں پر نظر رکھنی بہت ضروری ہے۔بعض لوگ اس کی پروا نہیں کرتے حالانکہ ماں باپ کو دکھائی دے دیتا ہے کہ کس قسم کے دوست ہیں اگر بچے کے دوست اچھے ہوں گے تو بچہ بھی ضرور اچھی تربیت پائے گا اس لئے آپ اس بات کا خیال رکھا کریں کہ اگر بچے کے غلط دوست دیکھیں تو پھر ان دوستوں سے بچے کا تعلق توڑنے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس میں اس ضمن میں پڑھ کر سناتا ہوں۔خوب یاد رکھو کہ جب تک خدا تعالیٰ سے رشتہ نہ ہوا ور سچا تعلق اس کے ساتھ نہ ہو جاوے ہو کوئی چیز نفع نہیں دے سکتی۔یہودیوں کو دیکھو کہ کیا وہ پیغمبروں کی اولاد نہیں ؟ یہی وہ قوم ہے جو اس پر ناز کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی نَحْنُ ابْنَوا اللهِ وَاحِبَّاؤُهُ ( المائدہ:۱۹) کہ ہم اللہ کی اولاد ہیں ، بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں ) ہم اللہ تعالیٰ کے فرزند اور اس کے محبوب ہیں مگر جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے رشتہ توڑ دیا اور دنیا ہی کو دین پر مقدم کر لیا تو کیا نتیجہ ہوا ؟ خدا تعالیٰ نے اسے سؤ ر اور بند رکہا اور جو حالت ان کی مال ودولت ہوتے ہوئے بھی ہے (اب دیکھ رہے ہو ) وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔“ حضرت ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین چیزیں جو ( ملفوظات جلد چہارم ص ۴۴۴)