اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 679

حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۷۹ خطاب ۲۶ راگست ۲۰۰۰ء مکتوبات احمد میں میاں عبد اللہ سنوری صاحب کی یہ روایت ہے عورتوں کے لئے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوند کی اطاعت کریں گی تو خدا ان کو ہر بلا سے بچاوے گا اور ان کی اولا دعمر والی ہوگی اور نیک بخت ہوگی۔پھر ملفوظات میں یہ روایت درج ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے۔اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا مگر تا ہم آپ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسہ لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اونگھ نہ آئے ( یعنی جب اونگھ آنے لگے اور خطرہ ہو کے گر جائیں گی تو رسے کو ہاتھ میں پکڑ لیا کرتی تھیں )۔عورتوں کے لئے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا ( ملفوظات جلد سوم ص: ۳۶۹) کا شکر بجالا نا ہے۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : تم اے عورتو! اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلاء سے محفوظ رکھے۔بے شک وہ مرد سخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جو رؤیں کر کے انصاف نہیں کرتا مگر تم خود خدا کی نافرمانی کر کے مورد قہر الہی مت بنو۔ہر ایک اپنے کام سے پوچھا جائے گا۔اگر تم خدا تعالیٰ کی نظر میں نیک بنو تو تمہارا خاوند بھی نیک کیا جاوے گا۔(روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح صفحه (۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ آخری اقتباس ارشاد ہے جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہمیں جو کچھ خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا ہے وہ بلا کسی رعایت کے بیان کرتے ہیں قرآن شریف کا منشاء زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقویٰ پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مثلاً اولا دصالحہ کے حاصل کرنے اور خویش واقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو اور اپنی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک، دو، تین چار عورتوں تک