اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 680
حضرت خلیفہ انسخ الرابع کے ستورات سے خطابات ۶۸۰ خطاب ۲۶ را گست ۲۰۰۰ء نکاح کر لو لیکن اگر اُن میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا۔“ 66 (ملفوظات جلد چہارم صفحه ۵۰ جدید ایڈیشن ) اب اس تعلیم کو بالکل غلط سمجھا گیا ہے ہرگز اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ نہیں ہے کہ چار بیویاں کی جائیں یا ایک سے زیادہ بیویاں کی جائیں۔یہ خصوصی حالات میں مرد کو اجازت دی گئی ہے ورنہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ نشاء ہوتا تو پھر دنیا میں ایک مرد کے مقابل پر چار عورتیں پیدا ہونی چاہئیں تھیں۔تو خدا کا فعل بتا رہا ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے بلکہ بعض مجبوریوں کی خاطر بعض حالات میں یہ ہدایت دی گئی ہے۔مگر شرطیں بہت کڑی ہیں خدا کا تقویٰ اختیار کر و شروع میں بھی فرمایا یعنی بیویوں سے سلوک میں خدا کا تقویٰ اختیار کرو پھر آخر میں بھی فرمایا بیویوں سے سلوک میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔تویہ تعلیم بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے جس طرح مردوں کو چھٹی ہے وہ ایک سے زیادہ جتنی چاہیں شادیاں کریں مگر حقیقت میں اکثر مرد ایک سے زیادہ شادیاں کر کے گناہ گار بنتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عورتوں کو یہ نصیحت ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے بچائے اور ایک سے زیادہ شادی کی جو اغراض ہیں خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اغراض پوری ہوں لیکن اگر اُن میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا۔“ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل دکھانا بڑا گناہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص : ۵۰ ) اب یہ خاص بات ہے جو سب کو پیش رکھنی ضروری ہے ایک باپ جب اپنی بیٹی کو رخصت " کر دیتا ہے تو پھر بہت تکلیف ہوتی ہے اس کو۔اگر اس بیٹی سے بدسلوکی کی جائے۔فرماتے ہیں: دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بڑے نازک ہوتے ہیں۔جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالے کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا امیدیں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازہ انسان عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ( النساء:۲۰) کے حکم سے ہی کر سکتا ہے اگر انسان کا سلوک اپنی بیوی سے عمدہ ہو اور اسے ضرورت شرعی پیدا ہو جاوئے تو اس کی بیوی اس کے دوسرے نکاحوں سے ناراض نہیں ہوتی ہم نے اپنے گھر میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ وہ ہمارے نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے رو رو کر دعائیں کرتی