اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 678

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۷۸ خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء میں لکھا ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء :۲۰) یعنی عورتوں سے بہترین معاشرہ کرو یعنی معاشرت کا سلوک کرو مگر اب اس کے علاوہ خلاف امر ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیج الرسن کر دیا ہے۔(خلیج الرسن سے مراد ہے کہ ان کی ڈوریں ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہیں جو مرضی کرتی پھریں) دین کا کوئی اثر ہی ان کو نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی اُن سے نہیں پوچھتا۔بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیجع الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا اور کنیزوں اور بہائم سے بھی بدتر اُن سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں ایک اتار دی دوسری پہن لی۔یہ بڑی ہی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں سے کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو آپ ایسے خلیق تھے باوجود یکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔بعض اوقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑے بھی ہیں۔ایک مرتبہ آپ آگے نکل گئے اور دوسری مرتبہ خود نرم ہو گئے تا کہ حضرت عائشہ آگے نکل جاویں اور وہ آگے نکل گئیں اسی طرح پر یہ بھی ثابت ہے کہ ایک بار کچھ حبشی آئے جو تماشہ کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ کو ان کا تماشہ دکھایا اور پھر حضرت عمرؓ جب آئے تو وہ حبشی ان کو دیکھ کر ڈر کر بھاگ گئے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحه ۷ ۳۸، ۳۸۸ جدید ایڈیشن)