اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 532
حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۳۲ خطاب ۶ ار اگست ۱۹۹۷ء ہے اور اس طرح آپ کو ہر شخص کا رخ معین کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرآن کریم اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے لِكُلِّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقره: ۱۴۹) کہ یہ ایک ایسا مضمون ہے جو تمام بنی نوع انسان پر یکساں اطلاق پاتا ہے ہر زمانے پر یکساں اطلاق پاتا ہے اور قرآن کریم نے دیکھو کتنے خوبصورت انداز میں ایک ہی جملے میں اسے بیان فرما دیا لِكُلِّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَفِّيْهَا۔ہر شخص کا ایک قبلہ ہے، ہر قوم کا ایک قبلہ ہے، ہر رنگ ونسل کا ایک قبلہ ہے هُوَ مُوَلَّيْهَا وہ اسی کی طرف منہ کرے۔پس قبلہ کی تعیین سب سے ضروری ہے اگر قبلہ کی تعیین ہو جائے تو سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں اس پہلو سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ خواتین کے سامنے وہ قبلے رکھے جائیں جو گزشتہ عظیم خواتین کے قبلے ہیں، جن کو قرآن کریم نے محفوظ فرمایا ہے، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث نے ہمارے سامنے خوب معین طور پر کھل کر پیش فرمایا ہے، بعید نہیں کہ ان کی باتیں سنیں اور بعض بچیوں کے دل ان میں اٹک جائیں۔چنانچہ یہی ترکیب میں نے کینیڈا اور امریکہ کے جلسے میں استعمال کر کے دیکھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کا غیر معمولی نتیجہ نکلا۔کثرت کے ساتھ بڑی بچیوں کے بھی اور چھوٹی بچیوں کے بھی مجھے خطوط ملے کہ اس سے پہلے ہم بغیر کسی سمت معین کے منہ اُٹھائے ہوئے جدھر معاشرہ جارہا تھا ہم بھی جارہی تھیں ہمارے سامنے کوئی قبلہ نہیں تھا اگر تھا تو غلط قبلہ تھا لیکن آپ نے جن خواتین کی باتیں کی ہیں انہوں نے ہمارے رخ ایک طرف موڑ دیئے ہیں اور اب ان خواتین کے رخ کے مطابق ہمیں ہر طرف خدا ہی کا قبلہ دکھائی خدا ہی دے رہا ہے اور ہم نے اپنے اندر نمایاں پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور پھر دعاؤں کے لئے لکھتی رہیں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان فیصلوں پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔پس اس کامیاب تجربے کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے گزشتہ اسی سال جلسہ خواتین (UK) میں اسی مضمون کو کچھ آگے بڑھایا تھا۔یہ مضمون بہت لمبا ہے کئی سالوں پر پھیل جائے گا لیکن جتنی بھی مجھے توفیق ہوئی میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔وجہ یہ ہے کہ اس میں مختلف خواتین کی مختلف تمنائیں ہیں۔کسی کے لئے کوئی قبلہ کام آئے گا، کسی کے لئے کوئی قبلہ کام آئے گا اس لئے مختلف خواتین کے ذکر مجھے تاریخ کے حوالے سے کرنے ہوں گے اور صرف تاریخ اولی یعنی پرانے زمانے کی۔پرانا زمانہ تو نہیں کہنا چاہئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا زمانہ تو بالکل نیا زمانہ ہے آنحضور کے زمانے تک پہنچ جائیں تو درمیان کے اندھیرے سب دور ہو جاتے ہیں اور وہاں آپ کو روشنی دکھائی دیتی ہے پس رسول اللہ کے زمانے تک پہنچنے کے