اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 486

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۸۶ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء محبت کی خاطر خدا کا عشق اُسکے دل میں ہیجان برپا کر دے۔اور اس کی تلاش میں اُس کی روح نکل کھڑی ہو۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود نے اپنے اشعار میں اپنی نثر میں بھی خوب کھول کر ہمارے سامنے رکھا اور اس مضمون کو سمجھے بغیر اور خدا کی محبت دل میں جاگزیں کئے بغیر ، حقیقت میں ہم زندہ نہیں ہو سکتے۔بسا اوقات ہم زندہ سمجھتے ہوئے دنیا میں حرکت کرتے ہیں، چلتے پھرتے ہیں، مختلف باتوں میں حصہ لیتے ہیں۔مگر ایک ویران دل کے ساتھ جو در حقیقت زندگی سے خالی ہوتا ہے۔زندگی اللہ کی محبت کا نام ہے۔لیکن یہ بات سمجھنے کے بعد اگر تقویٰ کے ساتھ اب اپنا جائزہ لے لیں اور سمجھ لیں کہ فی الحقیقت آپ خدا سے محبت نہیں کرتی یا نہیں کرتے تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ پھر کیسے کریں گے۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق میں جس حد تک توفیق ملے آپ کی رہنمائی کرنا چاہتا ہوں اور آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں که فرضی محبت ایک حقیقی محبت میں تبدیل ہو جائے۔سب سے پہلے تو محبت کا تجزیہ ضروری ہے۔محبت کیوں ہوتی ہے اور کیا ہوتی ہے؟ محبت تو زبردستی کی چیز ہے ہی نہیں۔لاکھ آپ کہیں اس سے محبت کر ولیکن اگر طبعا کسی چیز سے محبت نہ ہو تو اس طرف اشارے کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ اُس سے محبت کرو، محبت پیدا نہیں کر سکتے ناممکن ہے۔محبت میں تو بس ہی کوئی نہیں ، اختیار ہی کوئی نہیں۔یہ تو ایسی آگ ہے کہ کہتے ہیں جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے۔اگر لگانے کی کوشش کریں گے تو لگے گی نہیں، لگ جائے تو بجھائی نہیں جائے گی۔پس جب محبت پر انسان کا اختیار نہیں ہے۔تو کیسے کی جائے یہ سوال ہے۔اب آپ کو میں نے ایک طرح سے خوب سمجھا دیا کہ ہم میں سے اکثر فی الحقیقت خدا کی محبت کا فرضی نام لیتے ہیں۔دل اللہ کی محبت سے خالی اور ہر دوسری محبت سے بھرے ہوئے ہیں۔جو موازنے کے وقت بات ظاہر ہوتی ہے۔جب خدا تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ پر کوئی دوسری محبت آکھڑی ہو اس وقت پتہ چلتا ہے کہ فی الحقیقت خدا کے سوا ہم کسی اور سے محبت کیا کرتے تھے۔قرآن کریم میں یہی وہ نشانی ہے سچی محبت کی جو ہمارے سامنے بیان فرمائی۔فرماتا ہے : وَالَّذِينَ آمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلهِ وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔اس کی محبت کے سامنے کوئی اور محبت نہیں ٹھہرتی۔اس مضمون کو سمجھانا بہت مشکل کام ہے لیکن بہر حال یہ میرے فرائض میں سے ہے بلکہ اس مضمون سے مجھے محبت