اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 455

حضرت خلیفہ اسیح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۵۵ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء بالآخر اپنے آخری نتیجے کے طور پر آپ کے لئے ایک جنت پیدا کرنے کی ضامن تعلیم ہے۔جولطف اس تعلیم کے پھل کھانے میں ہے وہ دوسری زندگی کے پھل کھانے میں نہیں ہے اس لئے قرآن کریم نے جنت کی مثال دو قسم کے درختوں سے دی ہے۔ایک وہ درخت جس کے متعلق اللہ نے کوئی پابندی نہیں لگائی کہ اس سے پھل نہ کھاؤ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جہاں سے چاہو جیسا چاہو پھل کھاؤ یہ وہ تمام پھل وہ ہیں جو خدا کی رضا کے تابع زندگی بسر کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کھلی آزادیاں دی ہیں یہ بھی کرو، وہ بھی کرو، وہ بھی بہت ہیں، وہ کوئی کم تو نہیں ہیں۔اس دائرے میں رہیں اور اس دائرے میں رہنا سیکھیں تو پھر آپ کو حقیقی لذت سے آشنائی ہوگی ورنہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ حقیقی لذت اور حقیقی سکون کیا چیز ہے۔ان کا پھل میٹھا ہوتا ہے، ان کا پھل صحت مند ہوتا ہے، یہ پھل کھانے کے بعد جو رضائے باری تعالیٰ کی جنت کے درختوں میں لگتا ہے انسان کو کبھی بھی افسردگی نہیں ہوتی۔کبھی پچھتاوا نہیں ہوتا، کبھی بے چینی نہیں ہوتی۔مگر وہ پھل جس سے آدم علیہ السلام کو منع کیا گیا تھا ، وہ پھل جس سے تو ا کو منع کیا گیا تھا وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کے درخت کا پھل تھا اور دیکھنے میں لذت والا تھا لیکن اس لذت کے پیچھے شدید بے چینی تھی اور یہی وہ نقشہ ہے جو قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ کھینچا ہے۔فرمایا! آدم علیہ السلام اور حوا پھسل گئے شیطان نے ان کو کہا کہ بہت مزے کا پھل ہے یہی تو کھانے کے لائق ہے جب انہوں نے کھایا تو پھر ان کی کمزوریاں ان پر تنگی ہو گئیں۔ان کو محسوس ہوا کہ ان کے اندر کیا کیا خامیاں تھیں اور ایک پچھتاوا سا لگ گیا، ایک بے چینی شروع ہوگئی کہ ہم کیا کر بیٹھے ہیں۔یہ بات گناہ اور نیکی کی تفریق میں بہت ہی ضروری ہے۔نیکی اور بدی کی تفریق کے لئے جو بینائی ہے وہ اسی بات کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔اپنی ساری زندگی پر آپ نظر ڈال کر دیکھ لیں پہلی غلطی جو آپ نے کی ہے، کبھی ، پہلا گناہ جو کیا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس سے پہلے ایک حیاء کا پردہ تھا جسے پھاڑ نا پڑا تھا اور اس گناہ کے بعد مدتوں جس میں بھی وہ گناہ کیا جس نوعیت کا بھی تھا دل میں بے چینی محسوس کی ہے، بے قراری محسوس کی ہے۔ایسا شخص ہمیشہ اس کے بعد تڑپتا رہا ہے اور اس نے محسوس کیا جو پھل کھانے میں میٹھا تھا اصل میں بہت کڑوا ہے اور اس کے پیچھے ایک زہر کا سا مزہ ہے جو منہ میں باقی رہ گیا ہے لیکن جب پھر کیا، جب پھر کیا اور پھر کیا تو پھر یہ کڑوا کسیلا مزہ رفتہ رفتہ نظر سے غائب ہونے لگ گیا اور محسوس نہیں ہوا۔پس احساسات کی موت کا نام آپ لذت رکھ لیتی ہیں یہ کیسے ممکن ہے۔احساس وہی ہے جو طبعی ہے، جو پہلی غلطی کے وقت طبعی رد عمل ہے وہی قابل اعتمادا حساس ہے جو