اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 456

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۵۶ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء خدا نے پیدا فرمایا ہے بعد میں جو بے حسی پیدا ہوتی ہے یہ تو احساسات کے مرنے کا،احساسات کی موت کا نام ہے اس لئے نیکی اور بدی کے پھل کی جو عظیم مثال قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھی ہے اس پر آپ غور کریں تو ایک بات قطعی ہے کہ گناہ کا پھل اور نیکی کے پھل میں فرق یہ ہے کہ گناہ کا پھل کھانے میں مزیدار لگتے ہی جو نبی ختم ہوا پیچھے ایک شدید بے چینی چھوڑ جاتا ہے، بے قراری اور بدمزگی اور وہ لوگ جو اس بدمزگی سے نصیحت نہیں پکڑتے ، استغفار نہیں کرتے ، اللہ کی طرف تو بہ کے ساتھ مائل نہیں ہوتے ان کے لئے صرف یہی نہیں کہ ان کی حسیں مرجاتی ہیں بلکہ اس کے بعد ان کی ساری زندگی ایک سزا بن جاتی ہے، بد انجام کو پہنچتے ہیں ، وہ خراب ہو جاتے ہیں، ان کے گھر خراب ہو جاتے ہیں،ان کے بچے اجڑ نے لگتے ہیں۔پس قرآن کریم کی تعلیم کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں یہ کوئی Dictator کا حکم نہیں ہے آپ کے لئے۔اللہ کا حکم ہے جو فطرت کی باریک در باریک پہلوؤں پر نظر رکھتا ہے اور قرآنی تعلیم عین فطرت کے مطابق ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ ان امور کو سمجھنے کے بعد آپ یہ فیصلہ کریں گی کہ وہ ہر پھل جو ابتداء میں حیا توڑنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس پھل سے اجتناب کریں۔حیا کا پردہ اٹھا کر یا اسے پھاڑ کر جس لذت کو بھی آپ حاصل کرتی ہیں وہ لذت گناہ ہے اور وہ لذت آپ کے آخری مفاد کے خلاف ہے اور پھر حیا ر ہے یا نہ رہے وہ بداثر ضرور باقی رہتا ہے اور ایسے لوگوں کا انجام بہت ہی بد ہوتا ہے۔بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے کہ وہ لوگ جن کی زندگیاں اس طرح اجڑ جائیں ، ان کے بڑھاپے دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرتا ہے۔بہت ہی خوفناک بیماریوں میں مبتلاء ہو کر ایسے چہروں کے ساتھ وہ مرنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں جن کے انگ انگ پر سارے بدن کے دیکھ ظاہر ہور ہے ہوتے ہیں۔ایک ناکام زندگی ، ایک گناہوں میں ملوث زندگی جس نے سارے جسم کو پھوڑا بنا رکھا ہے اس انجام کو پہنچتے ہیں۔چہرے پہ کوئی حیاء کے آثار نہیں ہوتے اور ان کو دیکھ کر عبرت حاصل ہوتی ہے۔حقیقت ہے کہ نیکی ہی ہے جو انجام کا رسب سے اچھی چیز ہے۔آپ کسی نیک کومرتا ہوا دیکھیں اور پھر ایک بد کو مرتا ہوا دیکھیں تب آپ کو یہ باتیں سمجھ آئیں گی۔جو میں قرآن اور حدیث کے حوالے سے آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔جب ایک بد کو موت آتی ہے اس کی بے قراری اظہر من الشمس ہوتی ہے اور بلا استثناء ہر مرنے والا بدحسرت سے دیکھتا ہے کہ کاش میں اس سے پہلے کچھ اور کر چکا ہوتا اور ہر نیک جو جان دیتا ہے وہ اپنی جان جان آفرین کے سپر داشتنی طمانیت سے کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے۔رَاضِيَةً مَّرْضِيَةٌ ، ایسی روحیں بھی ہیں میرے ایسے غلام