اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 454
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۵۴ خطاب ۱۸ ستمبر ۱۹۹۵ء اس لئے مشکل معلوم ہورہی ہے کہ آپ کے موسم اور ہیں آپ جس ملک جس فضاء میں سانس لے رہی ہیں وہاں کا موسم مختلف ہے اور اس وجہ سے آپ کے دل میں کھٹن محسوس ہوتی ہے کہ کون اس مصیبت میں پڑے لیکن اگر آپ اس تعلیم کو اپنا لیں تو یاد رکھیں صحیح سکون کچی جنت اس کے نتیجے میں نصیب ہوگی۔تصور تو کریں کہ آپ کے مرد آپ کے معاملے میں کل یہ مطمئن ہوں اور آپ اپنے مردوں کے متعلق کلیتہ مطمئن ہوں جو آپ ان سے چاہتی ہیں وہ ویسے ہی بنیں اور جو وہ آپ سے چاہتے ہیں آپ ویسی ہی ہوں تو دیکھو کیسا اعتماد دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ایک اور پہلو سے بھی دیکھیں کہ جب آپ کی بچیاں بڑی ہورہی ہوں اور جوان ہو رہی ہوں تو جس قسم کی آزادی آپ نے اپنے لئے پسند کی تھی ان کے متعلق کیوں گھبراتی ہیں۔وہی باتیں جب وہ بچیاں کرتی ہیں تو آپ اس سے گھبرا جاتی ہیں آپ جانتی ہیں کہ ان کی عزت کا سوال ہے ان کی دائمی خوشی کا سوال ہے۔آپ جانتی ہیں کہ اگر یہ بے لگام ہو گئیں پھر ان کا مستقبل خطرے میں ہے ان کو کبھی بھی چین اور سکون کی گھریلو زندگی نصیب نہیں ہو سکے گی۔یہ ہمیشہ دوڑتی پھریں گی ان کے خاوند ہمیشہ ان سے بے اعتمادی کریں گے نہ ان کو اپنے خاوندوں پر اعتما در ہے گا نہ ان کے خاوندوں کو ان پر اعتماد رہے گا اور یہ گھر جنت نشان نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسا جہنم کا نمونہ بنے گا جہاں نہ عورت کو لطف آئے گا نہ مرد کو لطف آئے گا۔دونوں گھر سے ٹکڑا کر باہر بھاگیں گے اور اپنی اپنی لذتوں کو باہر تلاش کریں گے۔یہ اس کا بر عکس مضمون ہے پس اگر آپ نظر غائر سے دیکھیں فکر کی آنکھ کھول کر مطالعہ کریں تو آپ یقیناً اس بات پر مطمئن ہو سکتی ہیں کہ اللہ نے کوئی تعلیم آپ پر بوجھ ڈالنے کے لئے نہیں دی بلکہ آپ کے بوجھ ہلکے کرنے کے لئے دی ہے۔آپ نے جو باہر کی دنیا میں دیکھا ہے یہ اختیار کرنے کے لائق نہیں ہے۔آخری تجزیے کی صورت میں خدا تعالیٰ کی تعلیم یہ ہے جو آپ کی جنت کی حفاظت کرتی ہے اور آپ کے سکون اور طمانیت کی ضمانت دیتی ہے۔اس سے باہر بے چینی ہے بے قراری ہے۔لذتوں کی تلاش میں ہمہ تن دن رات زندگی بسر کرنا ہے مگر وہ لذتیں ہمیشہ آگے بھاگتی چلی جاتی ہے کبھی بھی ہاتھ نہیں آئیں۔آپ نے اگر اپنے تربیت میں توازن نہ پیدا کیا اگر نیکی کے ساتھ دل لگانے کا سلیقہ نہ سیکھا اگر حسن واحسان کے ذریعے لذت حاصل کرنے کا آپ کو طریقہ نہ آیا تو آپ کی زندگی دنیاوی لذتوں کی تلاش میں ہمیشہ سر گرداں رہے گی آپ کو کبھی بھی چین نصیب نہیں ہوسکتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کا اگر گہری نظر سے مطالعہ کریں تو آپ یقین کے درجے تک پہنچ سکتی ہیں کہ یہ تعلیم جو مشکل دکھائی دیتی ہے