اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 448
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۴۸ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء نہائے۔اس نے انکار کر دیا اس نے کہا میں تو نہیں نہاؤں گا۔اس ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ یہ ہمارے معاشرے میں تمہاری دخل اندازی ہے۔تم اپنی معاشرتی اقدار اور اپنے تمدن کو ہم پر ٹھونس رہے ہواس لئے ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔اگر تم نے تعلیم حاصل کرنی ہے تو اسی طرح تمہیں کرنا ہوگا ور نہ سکول سے نکل جاؤ۔اس کو میں نے سمجھایا کہ آپ خودان باتوں کو جانتے ہیں آپ کا معاشرہ ان وجوہات سے بہت گندہ ہو گیا ہے۔کئی قسم کے بدر جحانات یہاں پیدا ہو چکے ہیں اور خود بچے آپ کے اساتذہ سے بھی محفوظ نہیں رہے۔ایسی صورت میں آپ تمدنی ، معاشرتی فرق کہہ کر ان برائیوں کو یہاں جاری کریں تو یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہے۔یہ نقصان دہ ہے اور آپ کا کوئی حق نہیں کہ کسی انسان کو اس کے نقصان پر مجبور کریں۔اگر آپ کا تمدن برا ہے تو ہم کیوں اسے اختیار کریں۔ہاں جہاں اچھی تمدن کی باتیں ہیں میں اپنے بچوں کو خود نصیحت کرتا ہوں کہ آپ بھی ویسا بنیں۔یہ بات چونکہ ان کے اپنے تجربے میں تھی اور پہلے ہی اس معاملے میں تلخی محسوس کر رہے تھے کیونکہ ان کے بعض اساتذہ کا سلوک اپنے بچوں سے شریفانہ نہیں تھا اس لئے فوراً انہوں نے اس بات کو قبول کیا۔انہوں نے کہا ہاں میں سمجھتا ہوں یہ بات بالکل درست ہے۔کسی تمدن کسی معاشرے کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی قوم کے اخلاق بگاڑے۔میں نے کہا آپ کو تو ہم سے سیکھنا چاہئے۔ہماری بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کی آپ کے تمدن کو ضرورت ہے اور تمدن کی تعریف یہ کر لینا کہ ایک ہی ملک کے حالات اس وقت کا اس کے ملک کا تمدن ہے جو بدل نہیں سکتا وہ درست نہیں ہے۔معاشرہ اور تمدن تو ہمیشہ جاری رہنے والی ، تبدیل ہونے والی حالتوں کا نام ہے۔مختلف وقتوں میں وہ بدلتی ہیں اور مختلف قسم کے معاشرے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوکر ایک دوسرے کو تبدیل کرتے چلے جاتے ہیں۔کوئی قانون اس راہ میں حائل نہ ہوسکتا ہے، نہ حائل کرنا چاہئے۔میں نے ان کو کہا کہ معاشرہ تو نام ہی گلدستے کا ہے۔مختلف رنگوں کے مختلف خوشبوؤں کے پھول ہیں وہ اکٹھے ایک جگہ ہوں تو خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ایک ہی طرح کی عادتوں کو اگر آپ اپنا لیں تو یہ تو فوجی ڈرل ہو جائے گی اس کا نام معاشرہ نہیں ہوسکتا۔رفتہ رفتہ آپس میں جب ملیں گے ، ہندوستان کے معاشرے کو بھی آپ یہاں پنپنے دیں ، افریقہ کے معاشرے کو بھی پنپنے دیں پاکستان کے معاشرے کو بھی پنپنے دیں۔اگر آپ کو پسند نہیں تو اپنی جگہ وہ آپس میں ہی جس طرح رہنا پسند کریں آپ کا کیا حق ہے کہ اپنا معاشرہ ان پر ٹھونسیں۔یہ کوئی قانون شکنی تو نہیں کر رہے وہ۔آپ کے قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے وہ ایک طرز زندگی اختیار کرتے ہیں، کسی قانون کا حق