اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 447

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۴۷ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء ہوا مگر میں مجبور تھی مگر شوق سے ہاتھ بڑھاتے پھرنا ہر جگہ اس بہانے کہ یہاں کا معاشرہ اور ہے یہ درست نہیں ہے۔یہ آپ کی Society کو لازماً بے حیا بنا دے گا اور ایک دفعہ ایک جگہ ایک چیز کی شرم ٹوٹ جائے تو دوسری جگہ اور بھی بہت سی بے شرمیوں کو دعوت دیا کرتی ہے۔پس یہ مضمون ایسا ہے جسے غور سے سمجھنا چاہئے اس کو باریکی سے سمجھتے ہوئے اس کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں کیونکہ ہم جس معاشرے میں یہاں بس رہے ہیں اسلامی معاشرے کو کئی قسم کے خطرات درپیش ہیں کچھ تو معاشرتی فرق ہیں جو طبعی ہیں اور قدرتی فرق ہیں ان میں کوئی مذہبی فرق نہیں بلکہ قومی عادات کے فرق کا تعلق ہے۔ایسے معاشرتی انداز اگر کسی ملک میں اپنا لئے جائیں تو یہ بداخلاقی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کا مظہر ہے کیوں ہم ان سے ہر بات میں بھیج کر ر ہیں جن کی سرزمین میں آ کے بیٹھے ہیں ان کی اچھی باتیں اپنا نا تو گناہ نہیں ہے لیکن وہ معاشرتی اقدار جن کا مذہب سے ٹکڑاؤ ہے جو نہ صرف آپ کے لئے نقصان دہ بلکہ خود ان کے لئے بھی نقصان دہ ہیں وہاں سے بچ کر رہنا وہاں سے ہاتھ کھینچ لینا، اسلام آپ سے تقاضا کرتا ہے اور آپ کی عقل بھی آپ سے تقاضا کر رہی ہے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کی اگلی نسلوں کو ضرور نقصان پہنچے گا۔مجھ سے ایک دفعہ یہی سوال انگلستان میں کسی نے کیا کہ ہمارا معاشرہ اور ہے آپ کا معاشرہ اور ہے۔آپ ہمارے ملک میں آکر اپنے معاشرے پر جو زور دیتے ہیں تو ہم آپ کو اجنبی دیکھتے ہیں آپ ہم میں جذب نہیں ہو سکتے اس لئے ان وجوہات سے Racialism کو تقویت ملتی ہے اور یہ معمولی بات نہ سمجھیں۔ہمارے لڑکے آپ کی لڑکیوں پر ہنستے ، آوازیں کستے ہیں اور ایسے لڑکے جو عجب طریق سے رہتے ہیں ہمارے نزدیک عجب ہے۔ان کے اوپر بھی سکول کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے تو اب ان باتوں کو چھوڑ دیں۔وہ ہیڈ ماسٹر تھے جنہوں نے مجھ سے سوال کیا ان کو میں نے سمجھایا تفصیل سے کہ معاشرتی فرق ہوتا کیا ہے اور جہاں یہ فرق گناہ کا موجب نہیں ہے وہاں ہم شوق سے اسے اختیار کرتے ہیں اور کرنے دیتے ہیں ہرگز کوئی حرج نہیں دیکھتے اس میں۔اس لئے آپ خواہ مخواہ ایک بات کو ضرورت سے زیادہ بے محل بڑھا کر پیش نہ کریں حقیقت سے دیکھیں۔چنانچہ اس کی تفاصیل میں نے بیان کیں کہ آپ جس بات کو معاشرے کا فرق دیکھ رہے ہیں بعض باتوں میں ہم ان کو معاشرے کا فرق نہیں دیکھتے۔مثلاً ہیڈ ماسٹر کا ہی تعلق تھا۔میں نے کہا ایک ہیڈ ماسٹر نے ایک احمدی بچے کو جس کی عمر دس گیارہ سال کی تھی مجبور کرنا شروع کیا کہ وہ دوسرے لڑکوں کے ساتھ بالکل ننگا