اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 449
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۴۹ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء نہیں ہے کہ انفرادی طور پر دخل دے کر کسی کو اس کی طرز بود و باش میں مجبور کرے لیکن بعید نہیں کہ رفتہ رفتہ آپ کو ان کی ادائیں اچھی لگنے لگیں، آپ وہی رنگ اختیار کرنے لگیں۔چنانچہ اس کی مثال میں نے ان کو دی کہ آپ دیکھیں کھانا کھانے کے انداز تھے ایک زمانے میں جو یورپ میں اب بہت بدل چکے ہیں اور اس کی ایک وجہ مشرق سے ان کے تعلقات ہیں جنہوں نے مشرقی عادات کو ان کے اندر سرایت ہونے کا موقع دے دیا۔انگریزوں نے حکومت کی ہے ہندوستان پر ، پاکستان پر اور بہت سی جگہوں پر۔ایک زمانہ تھا جب وہ چھری کانٹے سے کھانے کا نام تہذیب رکھتے تھے اور ہاتھ سے کھانے کا نام وحشیانہ حرکت سمجھا کرتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ جاہل تو میں ہیں اور تمیز سے عاری ہیں جو اپنے ہاتھوں سے کھانا پکڑ کے کھاتی ہیں۔یہ ہائی جین (Hygiene) کے بھی خلاف ہے، یہ تمیز کے بھی خلاف ہے لیکن وقت گزرا انہوں نے دیکھا کہ رفتہ رفتہ جو بعض چیزیں ہاتھ سے کھانے کا مزہ ہے وہ چھری کانٹے سے آہی نہیں سکتا۔چنانچہ اب جتنے ان کے باربی کیو وغیرہ ہوتے ہیں ان میں چھری کانٹے پھینک دیتے ہیں اور ہاتھ سے پکڑ پکڑ کر کھاتے ہیں اور امریکہ میں تو بہت ہی رواج بڑھتا جارہا ہے اور انگلستان میں بھی جو ہوٹل ریسٹورنٹ وغیرہ ہیں وہاں اب رفتہ رفتہ ہاتھ سے لقمے بنا کے کھانے کے مزے لوگ لوٹنے لگے ہیں۔تو ایک تہذیب ایک وقت میں معیار سے گری ہوئی دکھائی دیتی ہے دوسرے وقت میں انسان اسی کو اپنا لیتا ہے اس میں زبر دستی کی کوئی روکیں ایسی نہیں پیدا کرنی چاہئیں کہ ایک تہذیب دوسری میں سرایت نہ کر سکے لیکن جہاں تک دینی تعلیم کا تعلق ہے، جہاں تک گناہوں کا تعلق ہے وہاں یہ مضمون نہیں چلتا وہاں خدا تعالیٰ نے بعض حدیں مقرر فرما دی ہیں۔معاشرے کے نام پر نہ آپ کو وہ حدیں تجاوز کرنے کا حق ہے ، نہ ان کا حق ہے کہ آپ کی حدیں توڑیں اور حیا ان حدود میں سے ایک حد ہے۔ہر وہ معاشرتی عادت ، ہر وہ تمدن جو انسان کو بے حیا بنا تا ہو وہ مرد کے لئے بھی مہلک ہے اور عورت کے لئے بھی مہلک ہے اور ساری قوم کے لئے بھی مہلک ہے کیونکہ جتنے گناہ پینپ رہے ہیں یہ بے حیائی کے نتیجے میں پنپ رہے ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ پردے کی روح کو سمجھتے ہوئے آپ حیاء پر زور دیں گی۔اپنی حیاء پر بھی ، اپنے بچوں کی حیاء پر بھی اور یقین رکھیں گی کہ حیاء سے آپ کے حسن میں کمی نہیں آئے گی بلکہ آپ کے حسن میں اضافہ ہوگا اور آپ کی خوبیاں اور چمکیں گی اور آپ کا گھر جنت نشان بن جائے گا۔حیا کی نظریں خود شرماتی ہیں، حیا کی نظروں میں بے حیائی کا گھور نا آہی نہیں سکتا۔پس حیا پردہ ہے