اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 40

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۰ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء سے پسماندہ اور پابندِ سلاسل عورت کو نجات دینے کے لئے دنیا میں نکلے ہیں۔عموماً جب اسلام کے دفاع میں اس مضمون میں لب کشائی کی جاتی ہے یا قلم اُٹھایا جاتا ہے تو بات چودہ سو سال پہلے اُس دور سے چلتی ہے جب کہ اسلام ابھی جزیرہ نما عرب میں اپنا نور لے کر پھوٹا نہیں تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ اسلام کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔اور عرب تہذیب و تمدن کے نتیجہ میں عورت پر قسما قسم کے مظالم روا ر کھے جاتے تھے۔مسلمان مفکرین جب اسلام کا دفاع کرتے ہیں تو اُس قبل از اسلام زمانے سے بات شروع کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ دیکھو عورت پر کیسے کیسے مظالم روا رکھے گئے تھے جن سے اسلام نے اُس کو نجات بخشی۔اس چودہ سو سال کے عرصے میں باقی دنیا میں کیا ہور ہا تھا، اور باقی دنیا میں عورت کی کیا حیثیت تھی ، اس وسیع لمبے دور کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور غلط رنگ میں یہ بات قبول کر لی جاتی ہے کہ اسلام کا موازنہ یا تو ماضی میں کیا جائے یا پھر حال میں بجائے مذاہب سے کرنے کے مختلف تہذیبوں سے اسلام کا موازنہ کیا جائے۔ان مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، آج میں نے اس موضوع پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن ایک دوسرے رنگ میں صحیح صورت حال آپ کے سامنے رکھنے کے لئے میں صرف ماضی کے حوالے سے بات نہیں کروں گا ، یعنی اسلام کے ماضی کے حوالے سے بات نہیں کروں گا، بلکہ یورپ کے ماضی کے حوالے سے بات کروں گا۔اور پھر اس دور کے حوالے سے بات کروں گا، جس دور میں سے اب ہم گزر رہے ہیں اور پھر آپ کو بتاؤں گا ، ان موازنوں کے بعد، کہ اسلام کا کردار عورت کے حقوق کی حفاظت کے سلسلے میں خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ تمام دنیا کے مذاہب سے ہی اعلیٰ اور برتر نہیں، بلکہ تمام دنیا کے فلسفوں سے بھی اور تمام دنیا کی تہذیبوں سے بھی زیادہ اعلیٰ اور برتر اور عورت کے حق میں مفید ہے۔بہر حال جہاں تک اسلام کے پس منظر کا تعلق ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کہ عرب کی دنیا میں حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ کے جلوہ افروز ہونے سے پہلے عورت نا قابل بیان مظالم کا نشانہ بنی ہوئی تھی اور اُس کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔یہ ایک وسیع مضمون ہے جو بار ہا آپ سُن چکی ہیں۔اس لئے مختصر آیاددہانی کے لئے صرف چند امور آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔عورت عرب تہذیب میں حیوانات اور دیگر سامان کی طرح وراثت میں منتقل ہوتی تھی۔بیٹا سوتیلی ماں کو ورثے میں پاتا تھا اور اس سے نکاح کرنے کا اولین حقدار تھا۔مطلقہ اپنی پسند سے دوسرا