اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 39

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۳۹ خطاب ۲۶ ؍جولائی ۱۹۸۶ء اسلام میں عورت کا مقام ( جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ ۲۶ / جولائی ۱۹۸۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی : مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيْوَةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل: ۹۸) ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ جو کوئی مومن ہونے کی حالت میں مناسب حال عمل کرے مرد ہو یا عورت ہم اُس کو یقینا ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم ان تمام لوگوں کو ان کے بہترین عمل کے مطابق ان کے تمام اعمال صالحہ کا بدلہ دیں گے۔آج کل دنیا میں عورت بحیثیت عورت ایک اہم مضمون بن چکی ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں عورت کی آزادی کی تحریکات مختلف شکلوں میں چل رہی ہیں۔مغربی دنیا میں ان آزادی کی تحریکات کا آغاز ہوا اور اب ان کے اثرات مشرقی دنیا میں بھی اس طرح ظاہر ہورہے ہیں کہ عورت کی آزادی کے علمبردار آزادی کا وہ تصور لئے ہوئے جو اُن کے دلوں اور اُن کے ذہنوں کی پیداوار ہے، مشرقی دنیا میں عورت کو وہ آزادی کا پیغام دے رہے ہیں، جو اُن کے نزدیک آزادی ہے۔اس کا پس منظر عموماً یہ بیان کیا جاتا ہے کہ پرانے مذاہب نے عورت کے تمام حقوق چھین لئے اور اسلام کو بالخصوص طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو ایک پس ماندہ اور قدیم طرز کی زندگی قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ آزادی کے علمبردار اسلامی تہذیب ، اسلامی قواعد، اسلامی پابندیوں