اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 41
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء نکاح نہیں کر سکتی تھی۔بیوہ کو خاوند کی وفات کے بعد ایک سال تک اندھیری کوٹھڑی اور گندے، غلیظ کپڑوں میں بند رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور اسے خاوند کا حق سمجھا جاتا تھا کہ اس کا سوگ عورت اس طرح منائے کہ ایک سال تک ان ہی غلیظ کپڑوں میں جو وفات کے وقت تھے ان میں ملبوس زندگی گزارے اور گھر سے باہر قدم نہ رکھے۔عورت بحیثیت خود ایک بدنامی کا داغ تھی جسے زندہ درگور کرنا مفخر سمجھا جاتا تھا اور بڑے فخر کے ساتھ شعروں کی صورت میں اور قصیدوں کی صورت میں اس امر کو بیان کیا جاتا تھا کہ ہم ایسے با غیرت اور خود دار ہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے ہیں۔ایک عرب شاعر کہتا ہے: تَهْوِي حَيَاتِي وَ أَهْوَى مَوْتَهَا شَفَقَاً وَالْمَوْتُ أَكْرَمُ نِزَالِ عَلَى الْحَرَمِ کہ میری بیٹی تو میری زندگی کی خواہاں ہے اور مجھے زندگی کی دعائیں دیتی ہے۔مگر میں اس کی موت کا متمنی ہوں کیونکہ حقیقت میں عورت کے لئے موت ہی سب سے زیادہ عزت کا مقام ہے۔عورت جوخود میراث تھی اسے ورثہ ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔عورت بدکاری کا آلہ سمجھی جاتی تھی۔یہاں تک کہ وہ مشہور قصائد جو سونے کے حروف میں لکھ کر کسی زمانہ میں، زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ میں آویزاں تھے ان میں سے بیشتر کا مضمون یہ تھا کہ ہم نے عورت سے یہ سلوک کیا ، ہم نے عورت سے یہ سلوک کیا ، ہم نے عورت سے یہ سلوک کیا۔اور سب سے بڑا افخر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم نے عورت کو اپنی ہوا و ہوس کا نشانہ بنایا ہوا ہے، اور کوئی نہیں جو ہمارے مقابل پر اس پہلو سے آسکے۔جتنا زیادہ کوئی شخص بدکرداری میں آگے بڑھا ہوا ہو، اتنا ہی زیادہ فخر کے ساتھ وہ شاعرانہ کلام میں اس بات کا ذکر کرتا تھا اور یہ بات اتنی ، عرب دنیا میں، اُن کا رعب اور اُن کی عزت قائم کرنے والی سمجھی جاتی تھی کہ اس موضوع پر سب سے گندے قصیدے خانہ کعبہ میں نمونہ کے طور پر لٹکائے گئے۔اس کے علاوہ عورت کی زندگی کی جو بھی تصویر ہے اس کی تفاصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔آج مغربی دنیا میں عورت کو جس قسم کا کھیل سمجھا جارہا ہے اور جس طرح تہذیب کے پر نچے اڑا دیئے گئے ہیں اور ہر چیز کو آزادی کے نام پر روا رکھا گیا ہے۔جو معاشرہ آج یورپ اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ہی میں نہیں بلکہ بکثرت مشرقی ممالک میں بھی پایا جاتا ہے وہ آپ جانتی ہیں ، وہ آپ دیکھ رہی ہیں۔یہ ساری باتیں اسلام سے پہلے کے عرب کے زمانے میں پائی جاتی تھی۔شراب اور رقص و سرود