اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 432

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۳۲ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء جو وفا دار ہو، نیک ہو، نیک مزاج ہو اور نیک کاموں میں اپنے خاوند کی مددگار اور تعاون کرنے والی ہو۔ایسی عورتوں کی ضروری نہیں شکل اچھی ہو۔اچھی شکل والی اگر عادتیں بد ہوں تو بعض دفعہ تھوڑی دیر میں ان کی شکلیں بہت ہی بری لگنے لگ جاتی ہیں ، جتنی اچھی صورت ہو بد عادتیں ان کو اور بھی بد زیب دکھانے لگتی ہیں۔وہ منہ کو آتی ہیں یہ کیا ہے؟ شکلیں دیکھو اور عادت دیکھولیکن اگر بدصورت عورت ہو وہ سمجھتی ہے بعض دفعہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حسن نہیں دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک حسن کی صلاحیت بخشی ہے۔بدصورت عورت بھی ہو اور نیک ہو فطرتاً نیک مزاج ہو تو لازماً اس کا اثر اپنے خاوند پر اور اپنے ماحول پر بالآخر ضرور غالب آتا ہے جو قدر اس کی دل میں پیدا ہوتی ہے اور باقی رہتی ہے ویسی ہی دوسری حسین عورت کی ہو ہی نہیں سکتی۔حسن چند دن میں اپنی لذت کھو دیتا ہے اس سے آشنائی اس کی لذت کو بوسیدہ کر دیتی ہے مگرنیکیوں سے آشنائی لذتوں کو دوام بخشنے والی ہے کبھی کوئی انسان کسی نیکی سے بور نہیں ہوتے دیکھا۔نہ ہوسکتا ہے۔ایک نیک مزاج آدمی ہو آپ کے ساتھ چل رہا ہواس کی نیکی کا حسن جب بھی جلوہ گر ہو آپ کو غیر معمولی کشش سے اپنے ساتھ اپنی طرف کھینچے گا۔اس کی قدر و منزلت آپ کے دل میں بڑھتی چلی جائے گی۔پس اللہ تعالیٰ جب نیکیوں کا ذکر فرماتا ہے تو بوریت کے مضمون کے طور پر نہیں بلکہ لذت کے ایک نہایت ہی اعلیٰ اور ستھرے ہوئے ایک روحانی منظر کشی کے طور پر پیش کرتا ہے۔اگر لذتیں ڈھونڈنی ہیں تو اس ملائے اعلیٰ میں لذتیں ہیں جو نیکیوں کے ساتھ وابستہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کا خلاصہ یوں بیان فرمایا ہے کہ دنیا میں تو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی متاع پیدا کی ہے یہ ہے ہی متاع عارضی فائدوں کی دنیا ہے مگر سب سے اچھی متاع نیک عورت ہے اس سے بہتر زندگی کی کوئی متاع نہیں اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عورت سے جو تعلق تھا آپ کی ذات میں اس کو نماز کے ساتھ باندھا ہے، حیرت انگیز بات ہے فرماتے ہیں دنیا کا دل اس میں ہوگا اُس میں ہوگا اس میں ہوگا میرا دل تو نماز میں اٹکارہتا ہے یا عورت میں ہے یا خوشبو میں ہے اور نماز اور خوشبو کے ساتھ عورت کے مضمون کو باندھ کر یہ بتادیا کہ اس تعلق میں کوئی نفسانیت نہیں کیونکہ نہ خوشبو میں نفسانیت ہے نہ عبادت میں نفسانیت ہے۔عبادت کی جو اعلیٰ قدریں ہیں وہ ایک نیک بیوی کی رفاقت سے انسان کو نصیب ہوتی ہیں اور یہ جو جنت ہے یہ آئندہ نسلوں میں جاری وساری ہو جاتی ہے۔آئندہ جنتوں کے قیام کے لئے ضروری ہو جاتی ہے۔اس پہلو سے آپ کو پردے کی روح کو سمجھ کر اپنے اوپر پابندی سمجھ کر اختیار نہ کریں