اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 433
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۳۳ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء بلکہ یہ سمجھیں کہ آپ کو عظیم نصیحتیں کی جارہی ہیں مردوں کی غلامی سے آزاد کیا جارہا ہے۔بے پردگی کی تعلیم دینے والے مرد ہر گز آپ کی خاطر یہ نہیں کر رہے، اپنے نفس کا کھلونا بنانے کی خاطر یہ کر رہے ہیں اسی لئے دنیا کی سب سے زیادہ مہنگی انڈسٹری کاسمیٹکس کی انڈسٹری ہے جہاں ارب ہا ارب ڈالر وہ کھینچ کر لے جاتے ہیں اور مرد چاہتے ہیں کہ عورت کو اور نگا کریں اور دکھائیں اور وہ اور محتاج ہوں Artificial ذرائع مصنوعی حسن کی تعمیر کی اور محتاج ہوتی چلی جائیں اور اس طرح دنیا کی دولتیں چند ایسے ہاتھوں میں سمٹتی جائیں جن کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ عورت کو ایک بے عزت کھلونے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں۔قرآن آپ کی عزت قائم کرنا چاہتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کی عزت کا قیام چاہتے ہیں۔ہر گز آپ کو بے وجہ پابند نہیں فرمانا چاہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ادا سے یہ بات پھوٹتی تھی دیکھیں ! کون نبی ہے جس نے یہ کہا کہ تمہاری جنتیں تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہیں نکال کے تو دکھا ئیں۔تمام دنیا پر نظر ڈال کر دیکھیں۔محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سواد نیا کا کوئی نبی نہیں ہے جس نے عورت کو ایسا عزت کا مقام بخشا ہو۔تمام اسلامی تعلیم تمام مذاہب کی تعلیم دراصل اسی مقصد کے لئے ہے کہ انسان کو جنت عطا ہوا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں تمہاری ماؤں کے قدموں تلے تمہاری جنتیں ہیں۔اتنا بڑا وسیع مضمون اس مضمون کا اس سے بھی تعلق ہے جو میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔اگر ما ئیں جنت بنانے والی ہوں گی تو ان کے قدموں سے ان کی اولادیں جنتیں لوٹیں گی اور وہ جنتیں وراثتا آگے چلی جائیں گی لیکن اگر مائیں ایسی نہ ہوں تو انہیں قدموں کے نیچے جہنم بھی ہو سکتی ہے۔پس جس تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم عورت کا مقام اور مرتبہ پیش کر رہے ہیں اس تعلق کو سمجھیں اس مضمون کے حوالے سے اس حدیث کا معنی سمجھنے کی کوشش کریں۔فرماتے ہیں ! تمہاری جنتیں تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہیں۔ایک فرمانبردار اولاد کا تصور بھی اس سے پیدا ہوتا ہے اسی سے پھوٹتا ہے ایسی نیک ماں کا تصور جس کے قدموں میں جتنا اولا د آئے اتنا ہی وہ جنت کے قریب ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ مضمون بھی اس میں موجود ہے پھر یہ کہ عورت کو کتنا بلند مقام حاصل ہے یعنی مردوں باپوں کے قدموں کے نیچے جنت نہیں دکھائی۔ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت دکھائی ہے پھر ماؤں کی ٹھنڈی چھاؤں کا ذکر بھی موجود ہو گیا کیسے ماں کی ٹھنڈی چھاؤں خواہ وہ بوڑھی بھی ہو جائے