اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 431
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۳۱ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء کی طرف چلتا ہے، جاری ہوتا ہے تمہارا فیض غیروں کو عطا ہوتا ہے تمہارا ہاتھ ان کے سامنے فیض پانے کے لئے نہیں پھیلا ہوا، وہ تم سے فیض پاتی ہیں۔یہ بنیادی وجہ ہے کہ تم بہترین ہو اور امر واقعہ یہ ہے کہ جن کا فیض دوسروں کو پہنچے جوسکون اُن کو نصیب ہوتا ہے، جو چین وہ پاتے ہیں اس کی کوئی مثال دنیا میں دوسری جگہ دکھائی نہیں دیتی۔اپنے ہاتھ سے اپنی ضرروتیں کم کر کے اپنی ضرورتیں کاٹ کر اپنے بچوں کی ضرورتیں کم کر کے اور کاٹ کر غریبوں کی خاطر خرچ کرنا یہ بھی ایک نشہ رکھتا ہے اور یہ وہ نشہ ہے جس کا کوئی ہینگ اوور (Hang over) نہیں ہے۔کوئی بعد میں ضمیر کے چر کے نہیں ہیں بلکہ ایسی لذت ہے جو دائمی آپ کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے۔پس قرآن کریم نے ساتھ ہی زکوۃ کا ذکر فرمایا کہ تمہیں لذتیں چاہئیں تو دیکھو لذتوں کے بہت سے سامان ہم نے مہیا کر دیئے ہیں۔تم بنی نوع انسان کی ہمدردی میں خرچ کرو، نیک کاموں پر خرچ کرو، پھر دیکھو کہ تمہیں کیسا سکون نصیب ہوتا ہے۔تو اسلام عورت کو محروم کرنے کے لئے نہیں بلکہ عورت کی حفاظت کے لئے ، اس کی عظمتوں کے قیام کے لئے ، اس کو ایسی تسکین بخشنے کے لئے آیا ہے کہ جس کے نتیجہ میں وہ غیروں کی تسکین پورا کرنے کا کھلونا نہ بنیں بلکہ دنیا کو ایک دائمی تسکین دینے کا موجب بن جائیں جو گناہ سے پاک ہو جو ایک ہمیشہ کی زندگی اپنے اندر رکھتی ہے ایک ایسی تسکین جو نسلاً بعد نسل ورثے میں ملتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ پردے کی روح ہے جس کی آپ نے حفاظت فرمانی ہے۔اب احادیث میں سے یہ چونکہ مضمون میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کا تو بہت ہی گہرا اور وسیع مضمون ہے ایک ہی آیت کے مختلف پہلوؤں میں انسان ڈوب کر دیکھے تو مضمون گھنٹوں بیان ہوسکتا ہے مگر وقت کے لحاظ سے جواب صرف چند منٹ رہ گیا ہے میں آپ کو چندا حادیث پیش کرتا ہوں تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نیک اور پاک نصیحت کا آپ پر گہرا اثر پڑے اور اس کے نتیجے میں جو میں کہہ رہا ہوں اسے قبول کرنے میں آپ کو مدد ملے۔حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ دنیا تو سامان زیست ہے ایک متاع ہے، لیکن سب سے بڑی متاع جو انسان کو عطا ہوئی ہے وہ نیک عورت ہے جس سے بڑھ کر دنیا کی متاع نہیں۔اب یہ حقیقت ہے کہ جن مردوں کے نصیب میں نیک بیبیاں آجا ئیں ان کے گھر جنت بن جاتے ہیں۔اس سے زیادہ کوئی چیز ان کی زندگی میں لذت پیدا نہیں کر سکتی، ان کی زندگی کو اطمینان نہیں بخش سکتی ، ان کی بے قراریاں دور نہیں کر سکتی ، ان کی بے اطمینانیوں کا حل نہیں ہے جیسا ایک پاک بیوی