اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 419
حضرت خلیفہ مسح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ۴۱۹ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء ناحق سیراب کرتے پھرو اس کی اجازت نہیں ہے۔چونکہ مرد اپنی فطرت سے مجبور ہے اور اس کی نظریں زیادہ بہکتی ہیں عورت کے مقابل پر اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُس کو ان مواقعوں سے ہی محروم کر دیا۔اب عورتیں بن سنور کر پبلک میں نہیں آئیں گی تا کہ جو کچھ بھی تمہیں خدا نے جائز ضروریات عطا کی ہیں ان کو جائز ذریعے سے پورا کرو اور اپنے گھر میں پاک ستھرے ماحول میں تسکین قلب کے سامان حاصل کرو اس لئے اسلامی معاشرے کی اس روح کو آپ کے لئے سمجھنا بہت ضروری ہے ورنہ حقیقت میں آپ پردے کا حق ادا نہیں کر سکتیں نہ اس کی روح کو سمجھ سکتی ہیں۔پس کسی کام سے محرومی کے لئے کسی حق سے محرومی کے لئے پردے کی تعلیم قرآن کریم میں کہیں بھی مذکور نہیں۔ہر جگہ پردے کی تعلیم کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، احادیث کا مطالعہ کر لیں عورت کو کبھی کسی پہلو سے اُس کے جائز بنیادی حق سے اسلامی پردہ محروم نہیں کرتا اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اس کی تسکین کی حفاظت کرتا ہے،اس کے گھر کی حفاظت کرتا ہے، اس جنت کی حفاظت کرتا ہے جو عورت کے بغیر بنائی نہیں جاسکتی ، عورت کو اس جنت سے نکال دیں تو آدم ویسے ہی پیچھے پیچھے نکل جائے گا اس بیچارے کا کیا رہ جاتا ہے اس لئے عورت نے نکالا ہو یہ الگ مسئلہ ہے مگر عورت کو اکیلا اللہ نکالتا تو وہ جنت ہی نہ رہتی آدم نے جانا ہی جانا تھا اس لئے فرمایا تم دونوں ہی چلے جاؤ تمہارا اکٹھے رہے بغیر گزارہ چل ہی نہیں سکتا۔پس اس پہلو سے آپ ایسی جنت بنا ئیں جہاں آدم اور حوا دونوں اکٹھے اکٹھے پھر میں، گھر میں بھی ساتھ رہیں ، گھر کے باہر بھی ساتھ رہیں معاشرہ حسین ہو جائے اور عورت اپنے جائز حق سے محروم نہ رہے۔پس میں نے بتایا ہے کہ کام ہیں۔اب اُن کام کرنے والی عورتوں کو جو افریقہ میں کام کرتی ہیں آپ دیکھیں اُن میں کہیں اشارہ بھی وہ سنگھار نہیں پایا جاتا جو بے وجہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔اُن کی ساری شکل صورت ان کے کاموں کے انہماک ان کی طبیعت میں کوئی گندہ خیال پیدا کرتا ہی نہیں حالانکہ اُن میں ایسی بھی ہیں جو صرف اپنے رواج کی وجہ سے (مسلمان نہیں غیروں کی بات بھی کر رہا ہوں ) اپنے رواج کی وجہ سے تقریبا نیم تنگی ہوتی ہیں جو مشرکہ عورتیں ہیں ان کا لباس وہاں تقریباً ننگا ہے لیکن جب وہ کاموں میں مصروف ہوں تو انسانی ذہن کو بھٹکنے کا کوئی موقع ہی نہیں پیدا ہوتا۔ان کا انہماک ان کی توجہ تمام تر زندگی کے لئے نان و نفقہ کمانے یعنی زندگی کے لئے ضروریات کمانے پر مبذول رہنا ہے اور ان کی توجہ اس سے ہٹتی ہی نہیں ہے۔لوگوں کی توجہ بھی اس طرف سے نہیں بہتی۔پھر اب ان عورتوں کو آپ اور قسم کا برقع اورقسم کا پردہ پہنا دیں تو وہ سارے معاشرے میں