اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 418

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۱۸ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء تبھی قرآن کریم نے اس مضمون کو یہاں بیان فرمایا ہے کہ بوڑھی بھی ہو جاؤ گی تو دل یہی چاہے گا کہ سنگھار پٹار کر کے نکلو ہم نے جب تمہیں اجازت دی ہے کہ نسبتا کھلے ماحول میں باہر آجاؤ تو پھر سنگھار کی اجازت نہیں ہوگی۔یہ تمہاری فطرت کے مطابق ہو اسلامی مزاج کے خلاف بات بن جاتی ہے۔تو پھر احمدی معاشرہ یوں ہونا چاہئے کہ جو عورتیں کام پر جاتی ہیں جنہوں نے پیشے اختیار کرنے ہیں مختلف قسم کے عزت والے پیشے یعنی ڈاکٹرز ہیں یا دکانوں پر کام کرنا پڑتا ہے، مغربی معاشرے میں تو خصوصیت سے عورتوں کو بہت کام کرنے پڑتے ہیں جو باہر کے کام ہیں مگر عام طور پر مشرقی معاشرے میں عورتوں کے زیادہ کام گھر سے وابستہ رہتے ہیں لیکن مشرق بھی اب ایک مشرق تو نہیں رہا۔مشارق ہیں کئی مشرقیں ہیں کئی مختلف رجحان ہیں۔مشرقی بعید میں اور رجحان ہے وہاں عورتیں برابر اقتصادیات میں حصہ لیتی ہیں۔افریقہ میں اور رجحان ہے وہاں مردوں سے زیادہ بعض جگہ عورتیں اقتصادیات میں حصہ لیتی ہیں۔بچے پیدا کرتی ہیں اُن کو اٹھایا ہوا پیٹھ کے اوپر ، ایک سامنے جھولی میں ڈالا ہوا پھر ہل بھی چلا رہی ہیں، پھر فصلیں بھی کاٹ رہی ہیں ، پھر مارکیٹ پر جا کر دکانیں بھی لگا رہی ہیں۔اب ایسی عورتوں کو آپ یہ کہیں اسلام کہتا ہے کہ تم کس کے برقع سامنے رکھو اور کالی عینکیں پہن کے باہر نکلو اور ہاتھ بھی نظر نہ آئیں تو اُس غریب قوم کو بھوکا مارنے والی بات ہے۔کہاں اسلام یہ کہتا ہے؟ اسلام جو کچھ بھی کہتا ہے یا درکھیں آپ کی عزت اور حفاظت کے قیام کی خاطر کہتا ہے کسی بنیادی انسانی حق سے محروم کرنے کے لئے نہیں کہتا۔پس پردہ جس معاشرے میں بھی ہو وہاں کسی صورت میں بھی عورت کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرتا اس کے اس بنیادی حق کو قائم کرتا ہے کہ چونکہ وہ نسبتا زیادہ لطیف چیز ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کو ایک نمایاں حسن عطا کیا ہے وہ حسین ہو یا نہ ہو اس کی نسوانیت میں ایک حسن ہے جس کی طرف نظریں جذب کے ساتھ اُٹھتی ہیں اس لئے اس کی حفاظت کی خاطر پر دہ ہے نہ کہ اس کو محروم کرنے کے لئے۔اگر محروم کرتا ہے تو پردہ تو گندے مردوں کو محروم کرتا ہے۔ان مردوں پر قدغن ہے جن کا دل یہی چاہتا ہے کہ پردہ اُٹھ جائے اور پھر وہ مزے کرتے پھریں جس طرح بھی چاہیں۔تو یہ بالکل غلط مفہوم ہے جو پردے کا سمجھا جا رہا ہے دنیا میں کہ اسلام نے عورت پر پابندی لگادی ہے۔اسلام نے مرد پر پابندی لگائی ہے کہ تم لوگوں پر ہمیں اعتبار کوئی نہیں۔جس طرح عورت کی فطرت ہے سنگھار کرے تمہاری فطرت ہے کہ دوسروں کے سنگھار سے ناجائز فائدے اٹھاؤ اور جگہ جگہ اپنی نظروں کو