اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 420

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۲۰ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء رخنہ ڈال دے گا اور وہ لوگ ان کے بچے بھوکے مرنے لگیں۔ہر صورت حال کو اس کے ماحول کے مطابق جانچنا چاہئے اور اس ماحول سے الگ کر کے اس کے نتیجے نکالنا غلطی ہے اور بیوقوفی ہے۔ابھی پیچھے چند ہفتے پہلے یا چند مہینے پہلے بڑا شور تھا یورپ میں اس بات میں کہ ہندوستان میں اور پاکستان میں چھوٹے بچوں پر ظلم کیا جاتا ہے، ان سے Labourالی جاتی ہے اس لئے ان کی تجارتوں کا بائیکاٹ کر دو۔ہندوستان پر تو اتنا زور نہیں تھا پاکستان پر زیادہ نزلہ ٹوٹ رہا تھا اور واقعتہ پاکستان کی ایکسپورٹ کو اس سے گہرا نقصان پہنچا کیونکہ وجہ یہ ہوئی تھی ( یہ بات نہیں تھی کہ ان کے علم میں پہلے یہ نہیں آیا تھا) وجہ یہ ہوئی تھی کہ ایک عیسائی بچے نے خبر دی تھی کسی عالمی ادارے کو کہ یہاں یہ ہو رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں بعض ظالموں نے اسے قتل کر دیا تو ردعمل اس بات کا تھا نہ کہ بچوں کی ہمدردی ، ورنہ یہ ساری باتیں کھلی کھلی ہیں سب کو علم ہے کہ کیا ہورہا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُس معاشرے میں جس کی میں بات کر رہا ہوں ان اقتصادی حالات میں جو ہندوستان اور پاکستان اور بنگلہ دیش اور دوسرے غریب ممالک میں پائے جاتے ہیں اگر بچوں کو کام کی اجازت نہ ہو اس کا متبادل یہ نہیں ہے کہ گھر بیٹھ کے آرام سے روٹی کھا ئیں اس کا متبادل یہ ہوگا کہ گھر بیٹھے سارے بھوکے مر جائیں کیونکہ اقتصادی حالات ایسے خراب ہیں بعض ملکوں کے ایک کمانے والا شخص اپنے سارے خاندان کو پال سکتا ہی نہیں اور اوپر سے مصیبت یہ ہے کہ غربت میں نشو ونما کی طاقت زیادہ پائی جاتی ہے۔جہاں غربت زیادہ ہو بچے بھی زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔اگر غریبوں کے بچے کثرت سے پیدا ہورہے ہیں ان کو سنبھالے کون ، ان کو کھلائے کون۔ایک عمر تک پہنچ کر جہاں وہ کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ان کا مفاد اس میں ہے کہ ان کو کام مہیا کیا جائے اور یہ صرف دیکھا جائے کہ غیر ضروری سختی نہ ہو۔اُن کی عمر کا خیال رکھا جائے اول تو بچپن ہی سے سختیاں دیکھتے دیکھتے غربت ہی ان کو سخت جان بنا دیتی ہے اور ان کی ہڈیاں عام بچوں سے مختلف ہوتی ہیں ان کے آرام اور تکلیف کے معیار جو عام بچوں سے مختلف ہو جاتے ہیں وہ ایک Hardener بچے جو زندگی کی تلخیوں میں سے گزر کر ایک نیا سخت وجود آپ کو دکھاتے ہیں اُن بچوں پر یہ رحم نہیں ہے کہ ان کے کام کے مواقع اُن سے چھین لئے جائیں۔ایسے بچے پھر جرائم پیشہ ہوجائیں گے، ایسے بچے سوسائٹی کو شدید نقصان پہنچا ئیں گے۔یہ چیزیں یہ دیکھتے ہی نہیں۔یہ سمجھتے ہیں یورپ میں بیٹھے ہم جیسا اپنے بچوں کے فیصلے کرتے ہیں ویسے وہیں بھی نافذ کر سکتے ہیں یہ بھول جاتے ہیں کہ انگلستان خود اور یورپ کے دوسرے ممالک ایک ایسے