اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 322
حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۲۲ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء جس کا تم ادعا کیا کرتے تھے، جس کو پکارا کرتے تھے۔نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيْمِ یہ غفور اور رحیم رب کی طرف سے مہمانی ہے۔تم خدا کے مہمان ہو اور اس رنگ میں اللہ تمہاری مہمان نوازی فرما رہا ہے ان آیات کریمہ سے یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی امت میں ہمیشہ فرشتوں کا نزول رہے گا اور کوئی دنیا کی طاقت اس نزول کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی اور یہ نزول بعض خاص ایام میں شدت اختیار کر جاتا ہے۔یعنی دکھوں اور ابتلاؤں کے دنوں میں یہ فرشتے جو بالعموم امت محمدیہ میں خدا کے پاک بندوں پر نازل ہوتے ہیں اور ابتلاؤں کے دنوں میں بکثرت نازل ہوتے ہیں اور یہ پھل ہے استقامت کا۔جو لوگ خدا کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور ہمیں کسی دوسرے کی پرواہ نہیں اور پھر اس دعوئی پر قائم رہتے ہیں، استقامت دکھاتے ہیں وفا کرتے ہیں ان سے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان پر خدا کے فرشتے بکثرت نازل ہوتے ہیں اور بولتے ہوئے فرشتے یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اس دنیا میں بھی ، آخرت میں بھی کوئی غم نہ کرو، کوئی خوف نہ کرو۔سوال یہ ہے کہ اس نزول ملائکہ کی کونسی علامتیں جماعت احمدیہ میں پائی جاتی ہیں جن کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے فضل کے ساتھ ہم وہی غلامان محمد مصطفی ﷺ ہیں جن کے حق میں یہ خوشخبریاں دی گئی تھیں۔اس پہلو سے بارہا آپ کے سامنے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی سوسالہ تاریخ سے بکثرت ایسے واقعات اور حقائق پیش کئے جاتے رہے ہیں جن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کے تجارب، خدا تعالیٰ سے تعلقات کے واقعات اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کی داستانیں محفوظ ہیں۔اس کثرت سے ایسے واقعات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں رونما ہوئے تھے کہ بلا شبہ ان پر کامل طور پر یہ آیت اطلاق پاتی ہے کہ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ بکثرت فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض راتیں ایسی گزریں کہ آپ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ یہ ہوتا تھا کہ میں کسی غم اور فکر میں مبتلا ہوتا تھا دشمن کی تیزیوں اور گستاخیوں سے دل مجروح ہوتا تھا اور تکیے پر سر رکھتا تھا اور ساری رات میرے خدا کے پیار کی آواز میں سنائی دیتی تھیں۔مسلسل ساری ساری رات مجھ سے کلام کرتا تھا اور تسلیاں دیتا تھا۔ایک صحابی نے مجھ سے بیان کیا کہ اس زمانے میں تو یہ کیفیت تھی کہ یوں لگتا تھا کہ ایکھینچ لگا ہوا ہے۔