اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 323
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات کے خطابات ۳۲۳ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء اُدھر بات کی اور ادھر اس کا جواب آ گیا۔پس خصوصیت کے ساتھ جو ابتلاء کا دور تھاوہ احمدیت کے آغاز میں اپنی پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہوا اور اسی شدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ انعامات جماعت پر نازل ہوئے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر ملتا ہے لیکن یہ سلسلہ محض تاریخ کا حصہ نہیں یہ جماعت احمدیہ کے وجود کا ایک لازم حصہ ہے اور جماعت احمد یہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کے واقعات لازم و ملزوم ہیں۔اگر یہ تعلق ٹوٹ جائے ، اگر اس نزول ملائکہ کا سلسلہ بند ہو جائے تو وہ دن جماعت احمدیہ کی موت کا دن ہو گا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج بھی بکثرت خدا تعالیٰ جماعت سے ہمکلام ہوتا ہے۔جماعت کے مردوں سے بھی عورتوں سے بھی اور بچوں سے بھی اور تمام دنیا میں یہ واقعات رونما ہوتے چلے جارہے ہیں۔شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جبکہ خطوط میں کسی نہ کسی تعلق باللہ کا تجربہ مجھے خط کی صورت میں پیش نہ کیا گیا ہو اور خطوں میں اس کا ذکر نہ ملا ہو۔اور یہ واقعات افریقہ میں بھی ہورہے ہیں، مشرق بعید میں بھی ہو رہے ہیں ، مشرق وسطی میں بھی ہورہے ہیں ، امریکہ میں بھی، کینیڈا میں بھی اور تعلق باللہ کی داستانیں جو ساری دنیا میں بکھری پڑی ہیں اور رونما ہوتی چلی جارہی ہیں ان سے متعلق مجھے کچھ اطلاعیں ملتی رہتی ہیں تا کہ میرا دل تسلی پا جائے کہ جس جماعت کا مجھے امام مقرر کیا گیا ہے وہ متقین کی جماعت ہے وہ فاسقین کی جماعت نہیں اور ایک زندہ جماعت ہے جس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ تعلق ہے۔آج کے اجلاس میں میں نے خواتین کی مناسبت سے کچھ واقعات وہ بیان کرنے کے لئے سامنے رکھے ہیں جن کا خالصی تعلق خواتین سے ہے۔یہ مضمون اتنا وسیع ہے اور واقعات کے ایسے انبار لگے پڑے ہیں کہ میرے لئے ممکن نہیں تھا کہ ان کا دسواں بیسواں حصہ بھی میں بیان کرسکتا۔میں نے ایک سلسلہ کے عالم کے سپر د کام کیا کہ ان واقعات میں سے کچھ چن کر مجھے دے دو۔ہوسکتا ہے میں خود تفصیل سے تلاش کرتا تو بعض اور زیادہ دل پر اثر کرنے والے واقعات اکٹھے کر لیتا مگر جو کچھ میرے سامنے پیش کیا گیا میں اس میں آپ کو اپنے ساتھ شریک کرتا ہوں۔سب سے پہلے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دور و یا آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ کس طرح خدا تعالیٰ احمدی خواتین سے بھی اس حالت میں بھی ہمکلام ہوا جب ابھی وہ بچہ تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ عادت تھی کہ آپ بچوں کو بھی دعا کے لئے کہا کرتے تھے اور پھر بعض دفعہ پوچھا کرتے تھے کہ کیا کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔یہ مطلب نہیں تھا