اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 313
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ٣١٣ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء مصنوعی طور پر بلند کر دیے گئے ہوں جہاں لذت کے ذریعہ غیر معمولی چمک دمک کے ساتھ اور کشش کے ساتھ ٹیلی ویژن پر دکھائے جا رہے ہوں۔لیکن عام انسان کے بس میں نہ ہو کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کر سکے وہاں لازم ہے کہ جرم گا اور بچے آغا ز ہی سے یہ سوچیں گے کہ کس طرح وہ دولت حاصل کریں جس کے نتیجہ میں وہ ان لذات کی پیروی کر سکیں۔پس یہ معاشرہ ہر پہلو سے کھوکھلا اور داغدار ہے اور دن بدن اور زیادہ خطر ناک ہوتا چلا جا رہا ہے۔جن گھروں میں بے چینی ہو وہاں گھر مسکن نہیں ہوتا بلکہ بیرونی دنیا مسکن بن جاتی ہے اور انسانی زندگی کی دلچسپیوں کے سامان گھروں سے نکل کر گلیوں میں آجاتے ہیں اور نیچے گھر میں تھکے ہارے بچے اسی وقت لوٹتے ہیں جب کہ مجبور اسونے کے لئے انھیں گھر آنا ہو یا خاوند اس وقت آتے ہیں جب کہ دنیاوی لذتوں سے بھر پور ہو کر یا مجبور ہو کر کہ اور پیسے نہیں ہیں خرچ کرنے کے لئے واپس گھروں میں لوٹتے ہیں۔شرابی اس وقت آتے ہیں جب کہ نشے میں مدہوش ہوتے ہیں۔ایسی حالت میں گھروں میں لوٹتے ہیں کہ ذراسی بچے کے رونے کی آواز پر بھی بعض دفعہ باپ بچوں کے سر دیواروں سے ٹکڑا کر ان کو جان سے مار دیتے ہیں مائیں شراب میں ایسی مدہوش ہو جاتی ہیں کہ ان کو بچوں کی کوئی فکر نہیں بلکہ مجھے یاد ہے کہ جب گذشتہ سفر پر میں امریکہ آیا تو حاکم کا علاقہ دیکھنے کے لئے گیا اور وہاں میں نے ایسی ماؤں کے نظارے دیکھے جن کو قوم نے مجرمانہ طور پر شراب کی لت ڈال دی تھی۔اور وہ باہر اپنی سیڑھیوں پر بیٹھی پاس بھری ہوئی یا خالی یا ٹوٹی ہوئی بوتلیں پڑی ہوئی تھیں اور ان کے بچے گلیوں میں آوارہ کھیل رہے ہوتے تھے اور کوئی انکا نگران کوئی ان کا پاسبان نہیں تھا اور انہی دنوں میں ایک ایسا واقعہ بھی ٹیلی وژن پر دکھایا گیا کہ ایک ماں نے جس کا نشہ ٹوٹا ہوا تھا اور غصہ قابو میں نہیں تھا اس نے ایک شور مچاتے ہوئے بچے کا سر خود دیوار سے ٹکڑا کر پاش پاش کر دیا اور وہ بھوکا روٹی مانگ رہا تھا یا دودھ طلب کر رہا تھا تو اس معاشرے کا انجام یہ ہے کیوں بچپن میں آپ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کو سمجھاتی نہیں۔ہمارے مشرقی معاشرے میں یہ کمزوری ہے کہ بچوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ بس ڈانٹ ڈپٹ کر منہ بند کرادینا یہ بہت کافی ہے اور بچے کون ہوتے ہیں کہ ان سے آپ با قاعدہ بڑوں کی طرح برابر بیٹھ کر گفتگو کریں۔حالانکہ بچے خدا تعالی کے فضل سے بہت ذہین ہوتے ہیں اور بعض باتوں میں ماں باپ سے زیادہ صاف ذہن رکھتے ہیں کیونکہ ان کے دماغ بعض prejudicied اور غلط رجحانات کی وجہ سے آلودہ نہیں ہوتے ان کو اگر صحیح بات پیار سے محبت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یا گود میں بیٹھا