اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 314

حضرت خلیلہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۱۴ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء کر سمجھائی جائے تو سمجھتے ہیں میرا تو اپنے بچوں سے ہمیشہ کا یہی تجربہ ہے کہ خواہ کیسا ہی اختلاف ہو جب ان کو پیار سے سامنے بٹھا کر ان کو کھل کر بات کرنے کا موقع دیا اور آرام سے انھیں سمجھایا تو کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے ضد کی ہو اور وہ بات سمجھتے ہیں اور پھر اس پر قائم ہو جاتے ہیں۔پس یہ وہ طریق ہے جس سے آپ کو بچوں کی تربیت کرنا ہوگی۔پہلے دعا کے ذریعے پھر عبادت کے قیام کے ذریعہ پھر خدا تعالی کی محبت دلوں میں جاگزین اور پھر سمجھا کر برابر آمنے سامنے بیٹھ کر ان کو بتا ئیں اور سمجھائیں کہ دیکھو یہ چیزیں بالآخر نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ایسے گھر جہاں محبت کے بندھن مضبوط ہوں وہاں بچوں کے نقصان کا احتمال بہت کم ہوتا ہے یہ ایک اور بات ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں بعض مائیں جن کو بعض بچوں کے لئے وقت نہ ہو مثلاً کمائی کے لئے ان کو مجبور آباہر نکلنا پڑتا ہو یا سجاوٹ سے اور سوشل دلچسپیوں سے ہی فرصت نہ ملے ان کے بچوں کی دلچسپیاں گھر میں ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ انکے وہاں محبت نہیں ملتی وہ سکولوں میں جاتے ہیں تو سکول کے لڑکے ان سے پیار کرتے ہیں بعض بد ارادوں کے ساتھ اور غیر ذمہ داری کے ساتھ اور رفتہ رفتہ بچہ گھر سے اکھڑ کر غیروں کا ہوتا چلا جاتا ہے۔مائیں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتی ہیں اور کچھ کر نہیں سکتیں۔کیونکہ انکا اس میں بہت بڑا قصور ہوتا ہے۔انھوں نے بچوں سے دوستی نہیں کی انھیں پیار نہیں دیا اسے اپنایا نہیں۔پس جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مصنوعی طور پر اپنی زندگی کے معیار کو بڑھایا جائے۔یہ بھی ایک خاص قابل ذکر بات ہے۔اگر انسان سادگی سے قانع نہ ہواگر انسان پیسے کا ایسا شیدائی ہو کہ خاوند کی کمائی سے گھر کا اچھا گزارہ چلنے کے باوجود عورت ضرور بچوں کو چھوڑ کر باہر نکلے اور اپنی آزاد کمائی کرے تو اس کا خمیازہ اس کے بچوں کے نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔مجبوریوں کی باتیں الگ ہیں۔بعض دفعہ مائیں مجبور ہوتی ہیں۔بعض دفعہ خاوندوں کے پاس کام نہیں ہوتے اور بیویاں خاوندوں کو پالتی ہیں۔ان خاوندوں بے چاروں کا حال دیکھنے کے لائق ہوتا ہے مگر وہ بھی پھر روزانہ باہر نکل جاتے ہیں کم سے کم اتنی شرافت تو کریں کہ بیوی کی کمائی کھا رہے ہیں تو بیوی کی ذمہ داریاں بھی قبول کریں۔لیکن گھروں میں بیٹھنے کی بجائے بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے خصوصیت سے جب بچے سکولوں سے واپس آتے ہیں اس وقت وہ توجہ کے محتاج ہوا کرتے ہیں۔ان کو ٹیلی ویثرن کے سامنے پھینک کر ماں باپ سمجھتے ہیں کہ کمال ہو گیا۔بچے ہمارے گلے سے اترے اور ٹیلی ویثرن نے