اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 306

خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات نہیں اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ بڑے بڑے ہال اس مسجد کے ساتھ ملحق ہوں جہاں کا نفرنسز ہو رہی ہوں بڑے بڑے عظیم الشان دفاتر ہوں۔جن ملکوں کے پاس تیل کی دولت ہے یا جو مساجد کو بھی اپنی انا کے دکھاوے کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں ان کو یہ باتیں مبارک ہوں مجھے تو ایسی مسجد چاہئے جہاں زیادہ سے زیادہ نمازی خدا تعالی کی عبادت کی غرض سے حاضر ہوں۔پس عبادت کے صحن کو عبادت کی عمارت کو وسیع تر کر دیں اور لو احقات جو دیگر مسجد کے ساتھ ملتے ہیں ان کو چھوٹے سے چھوٹا کر دیں۔چناچہ بہت انہوں نے محنت کی کئی طرح سے نقشے تجویز کئے اور آخر اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ ایک ایسی مسجد کی تعمیر پر ہمارا اتفاق ہو گیا جو ان کے آریچر نقطہ نگاہ سے بھی بہت عمدہ تھی اور ہماری ضروریات کیٹ کے پیش نظر بھی عین مناسب حال تھی۔اللہ تعالی کا بڑا احسان ہے اور جماعت احمدیہ کینیڈا اس لحاظ سے بھی مبارک باد کی مستحق ہے کہ انہوں نے کل کی اور آج کی تقریبات کو بیک وقت دنیا کے تمام براعظموں میں مواصلاتی ذرائع سے ٹرانسمٹ کرنے کے تمام اخراجات برداشت کئے۔اور آج وہ دن ہے کہ خدا تعالی کے فضل کے ساتھ ہماری روحیں ہمارے دل ہمارے جسم خدا کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی آواز آج زمین کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے اور آپ کے اس عاجز نمائندہ کی تصویر بھی اس آواز کے ساتھ ساتھ پہنچ رہی ہے۔بظاہر آواز میری بظاہر شکل میری لیکن حقیقت میں یہ وہ وعدے ہیں جو مسیح موعود الصلوۃ والسلام سے کئے گئے تھے اور انہی کی برکت ہے اور انہی کی خیرات ہے کہ آج ہم یہ مبارک دن دیکھ رہے ہیں۔پس بہت مبارک ہو اور ان آنے والوں کو بھی جو دور دور د سے تشریف لائے۔امریکہ خدا کے فضل کے ساتھ غیر معمولی طور پر اس جلسہ میں شامل ہونے کی توفیق پا رہا ہے۔ایک زمانہ تھا جب کہ امریکہ کے جلسوں میں بہت معمولی گفتی کی تعداد ہوا کرتی تھی مجھے یاد ہے جب میں ۱۹۷۸ء میں وہاں حاضر ہوا تو ایک مسجد واشنگٹن چھوٹی سی مسجد تھی اس کا بھی ایک حصہ خالی پڑا تھا اور دلچسپی بھی کم تھی نسبتا اور تعداد بھی معمولی تھی۔اب خدا کے فضل سے دو ہزار کی تعداد میں یا اس کے لگ بھگ امریکہ کے احمدی اس جلسہ میں شرکت کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔جہاں تک کینیڈا کا حال ہے وہ اس سے بھی پتلا تھا۔جب ۱۹۷۸ء میں میں اپنی اہلیہ اور دو بچیوں کو لے کر یہاں آیا تو ٹورانٹو کا مشن ہاؤس ایک چھوٹی سے عمارت پر مشتمل تھا۔اور اس عمارت کے ایک کمرے میں ایک دوصفوں سے زیادہ نہیں تھیں۔