اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 305

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۰۵ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء ماؤں کی تربیت اولاد کی ذمہ داری اور اس کے طریق ( خطاب فرموده ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۲ء بر موقع جلسہ سالانہ کینیڈا) سب سے پہلے تو میں لجنہ کی عزیز ممبرات کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ وہ دن طلوع ہوئے جن میں ہم اکٹھے ہو کر مل جل کر خدا کی حمد کے گیت گا رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ایک بہت ہی عظیم اور وسیع مسجد کی تعمیر کی توفیق بخشی ہے جو عیسائیت کے گڑھ کے دل میں واقع ہے عیسائیت کا گڑھ ان معنوں میں کہ کسی زمانہ میں یہاں اکثریت عیسائیت کی قائل بھی تھی اور عیسائیت پر عمل بھی کرتی تھی۔اگر چہ یہ باتیں اب قصہ پارینہ ہوتی جا رہی ہیں لیکن مجموعی تشخص کے لحاظ سے یہ ملک ابھی بھی عیسائی ہی کہلائے گا۔پس اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے اس ملک میں ہمیں ایک عظیم مسجد کی تو فیق عطا فرمائی ایسی مسجد کہ جس کی مثال نہ شمالی امریکہ میں ہے نہ جنوبی امریکہ میں اس کثرت سے نمازی یہاں خدائے واحد کی عبادت کے لئے اکٹھے ہو سکتے ہیں کہ کوئی اور مسجد اس کا ہم پلہ نہیں ہے۔جب یہ مسجد تعمیر ہو رہی تھی تو شروع میں آرکیٹیکٹ صاحب نے جو بہت وسیع تجر بہ مساجد کی تعمیر کا رکھتے ہیں ایک ایسا نقشہ پیش کیا جس میں عبادت کی ضرورتوں کا کم خیال تھا اور دیگر ضرورتوں کا بہت زیادہ میں نے دو تین دفعہ پیغام بجھوایا لیکن پوری طرح وہ بات سمجھ نہیں سکے۔لیکن بہت ہی شریف النفس انسان ہیں غیر معمولی تعاون کرنے والے حالانکہ دوسرے آرکیٹیکٹس میں میں نے یہ بات نہیں دیکھی الا ماشاء اللہ احمدی آرکیٹیکٹس کے علاوہ دوسروں کی بات کر رہا ہوں۔ان سے میں نے دراخواست کی کہ ہو سکے تو مجھ سے ملیں چنانچہ وہ سفر اختیار کر کے لندن تشریف لائے اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں تین بار کم از کم ہماری ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں میں نے تفصیل سے سمجھایا کہ جماعت احمدیہ کو دکھاوے میں کوئی دلچسپی