اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 307
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۰۷ خطاب ۱۷ را کتوبر ۱۹۹۲ء جو بہت لمبی تگ ودو کے بعد اس اطلاع کے بعد کہ میں آرہا ہوں خصوصیت سے ان کو ملنا چاہتا ہوں وہ لوگ اکٹھے ہو سکے اور اُن میں سے بھی بعض اعتراض کی خاطر آئے تھے۔کسی خاص اعلیٰ مقصد کی خاطر نہیں چنا نچہ لمبا عرصہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کو سمجھانا پڑا کہ دیکھو تم نیکی کے کاموں میں تعاون کر وحصہ لو۔اگر وہ لوگ جو حصہ لے رہے ہیں ان کی ادائیں پسند نہیں تو مل کر محبت اور اخلاص سے ان کو سمجھاؤ ان کی برائیوں کی تلاش نہ کرو ان کی خوبیوں پر نگاہ رکھو اور یہ بھی تو دیکھو کہ تمہاری عدم دلچسپی کا یہ نتیجہ ہے کہ جیسے چاہتے ہو ویسے نہیں ہورہا۔اور اس کے بعد بھی پھر یہ سلسلہ نصیحت اور سمجھانے کی کوشش کا جاری رہا جب میں نے انگلستان جا کر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں کینیڈا کی جماعت کا آنکھوں دیکھا حال بتایا تو اتنے ناراض ہوئے۔تم نے کیوں ان عہد یداروں کو وہیں معطل نہیں کر دیا میں نے عرض کیا میری مجال کیا تھی میری حیثیت کیا تھی میں ایک ذاتی سفر پر تھا۔لیکن آپ کو تکلیف اتنی تھی کہ بار بار یہی بات دہرا ر ہے تھے چنانچہ اس کے بعد بھی کچھ عرصہ تک جماعت کینیڈا ایسی جماعتوں میں شمار نہیں ہوئی کہ جسے انسان دنیا میں نمونے کے طور پر پیش کر سکے۔اب دیکھیں کہ وہ دن کیسے بدلے ہیں۔اس میں لجنہ کی حاضری خدا کے فضل سے اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے دل بھر جاتا ہے۔جس طرح یہ ہال لجنہ سے بھرا ہوا ہے اور پھر ایسی نظم وضبط کی لڑیوں میں پروئی ہوئی خاموشی کے ساتھ بغیر کسی شور بغیر کسی بدنظمی کے آپ سب بیٹھی اس اجلاس میں شامل ہو رہی ہیں۔یہ بہت اللہ تعالیٰ کا فضل اسکا احسان ہے۔اسی کی عطا کردہ برکتیں ہیں۔دعاؤں کو سنتا ہے بے قرار دلوں پر نظر رکھتا ہے اور اگر خدا کے کاموں میں خدا سے مدد مانگی جائے تو وہ مد دضرور آسمان سے آتی ہے۔پس پہلی نصیحت آج آپ کو یہی ہے کہ دعاؤں پر زور دیں ورنہ آپ کا کام بہت مشکل ،، ہے۔بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں۔جو آپ کے نازک کندھوں پر ہیں۔اور ایک لحاظ سے مرد کو قوام مقرر فرمایا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس میں پیش کروں گا اس میں اس کا بھی ذکر ہے لیکن ایک لحاظ سے عورت پر اتنی بڑی ذمہ داری ڈالی گئی کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ تمھاری جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔پس اس نقطہ نگاہ سے میں آپ کی ذمہ داریاں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں وہ ایسی ذمہ داریاں ہیں جن سے آپ واقف تو ہیں لیکن انسانی فطرت ہے کہ ان باتوں کو بھولتا جاتا ہے جو کام ایسے ہوں جیسے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے آسان اور نیچے اترنے والے ان میں انسان تیز قدموں سے دوڑتا ہوا چلتا ہے جو اوپر کے رستے ہوں اعلی قدروں کو حاصل کرنے کی راہیں ہوں۔ان