اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 301
حضرت خلیفہ اسیح الرابع ' کے مستورات سے خطابات ٣٠١ خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء تعلق اور محبت پیدا کرنے کی خاطر کی جاتی ہے۔تو میں اس لئے وہ واقعات آئندہ آپ کے سامنے رکھوں گا تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ اسلام کا خدا صرف مردوں کا خدا نہیں ہے۔وہ عورتوں کا بھی خدا ہے اور جن عورتوں نے اللہ سے سچی محبت کی ہے اس کے جواب میں وہ ان پر ظاہر ہوا ہے اور بڑی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا رہا ہے۔پس امید ہے اس کے نتیجہ میں آئندہ آپ کے دل میں بھی تعلق باللہ کی طرف ذاتی توجہ پیدا ہوگی۔سردست میں اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ چندہ کے متعلق میں نے جو باتیں پیش کی تھیں وہ ہرگز تحریک کے لئے نہیں کی تھیں۔یہ غلط فہمی دور اس لئے کرنی پڑ رہی ہے کہ ایک خاتون نے اپنی انگوٹھی بہت پیاری سی انگوٹھی اتار کر بھجوا دی ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی ضرورت نہیں ہے۔جتنی تحریکیں میں نے کی ہیں ان میں جو میرا اندازہ ہوتا تھا اس سے زیادہ چندے موصول ہوئے ہیں اور احمدی خواتین ہرگز مردوں سے پیچھے نہیں رہیں۔اس لئے ابھی سب کچھ اپنے پاس رکھیں اگر وقت آیا اور کوئی ضرورت پیش ہوئی تو میں جانتا ہوں آپ گھر میں کچھ بھی نہیں رکھیں گی۔سب کچھ پیش کر دیں گی۔لیکن بغیر تحریک کے کوئی ضرورت نہیں ہے۔میں صرف بتانا چاہتا تھا آپ کو اور آپ کی وساطت سے غیر مسلم خواتین کو جو مغرب میں رہتی ہیں کہ تم نے بھی اپنی ایک عیش و عشرت کی دنیا بنائی ہوئی ہے جس کو تم آزادی سمجھتی ہو۔اور تم مجھتی ہو کہ تم تہذیب و تمدن کی صف اول میں آگے آگے چل رہی ہو۔ایک احمدی خواتین کا بھی رستہ ہے اس رستے پر وہ گامزن ہے تم شاید یہی بجھتی ہو کہ تم نے جو رستہ اختیار کیا ہے وہی سچا دائگی لذات کا رستہ ہے مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ نیکیوں کی راہ میں آگے بڑھنا ایک ایسا سچا خلوص اور تعلق اور پیار اور امن کا رستہ ہے کہ اس کا اور کوئی مقابلہ کسی رستے پر نہیں ہو سکتا۔دنیا کے رستے دنیا کی لذتوں کی طرف جاتے ہیں۔لیکن وہ لذتیں عارضی ثابت ہوتی ہیں۔وہ لذتیں بے چینی پیدا کر جاتی ہیں ان لذتوں کے نتیجہ میں ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جاتے ہیں گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔بچے ماؤں کے نہیں رہتے۔باپ بیٹوں کے نہیں رہتے۔گھر گھر میں بدیاں پھیلتی ہیں اور مزید کی طلب ایسی ہے کہ جیسے آگ لگ گئی ہو۔سمندر کا پانی ہے جس سے آپ اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کر رہی ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔جتنا پانی پیئیں گی اور پیاس بھڑکتی چلی جائے گی۔مزید کی طلب اور پیدا ہوتی چلی جائے گی۔کہاں تک آخر آپ پہنچیں گی؟ اس لئے حقیقت یہی ہے کہ تسکین کا رستہ وہی ہے جو اسلام نے سکھایا ہے۔نیکی کے کاموں میں آگے بڑھیں۔آپ کو دائمی تسکین ملے گی۔وہ خواتین جن کی قربانیوں کا میں نے