اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 293

حضرت خلیفتہ اسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۹۳ خطاب ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۲ء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرورت پیش آئے اور یہ جائز ہو تو میں تجھے بھی فروخت کر کے چندے میں دے دوں۔یعنی اپنے خاوند کو کہتی ہے کہ تم برتنوں کی بات کر رہے ہواگر یہ جائز ہو۔اور اللہ کی طرف سے اجازت ہو آج میرا بس چلے تو تجھے بھی بیچ دوں اور جو پیسے آئیں وہ بھی چندے میں دے دوں۔یہ جرمنی ملک جس میں ہم اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں ان کا جماعت پر بڑا احسان ہے مگر وہ قربانیاں جوغریبوں نے جرمن قوم کو دین سکھانے کے لئے پیش کی تھیں وہ چند آنوں کی ہوں ، بکریوں کی ہوں ، دو پٹوں کی ہوں یا زیورات کی یا گھر کے برتنوں کی۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی چمک دمک کو آئندہ زمانوں کی کوئی بھی قربانیاں ماند نہیں کر سکتیں۔قربانی کا تعلق دل کے جذبوں سے ہوا کرتا ہے۔پیسوں کی مقدار قربانی نہیں بنایا کرتی۔وہ ولولے وہ جذ بے وہ پچھلتی ہوئی روح جو قربانی کو پیش کرنے کے لئے بے قرار ہوا کرتی ہے وہی ہے جس سے قربانی کے معیار بنتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان کہ احمدی عورتوں نے جرمنی کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اور جرمن قوم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں داخل کرنے کی خاطر خدا تعالیٰ کے حضور جو قربانیاں پیش کی ہیں اگر چہ وہ بیت الذکر نہیں بن سکی مگر یہ قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔اور یہی وہ قربانیاں ہیں جنہوں نے آئندہ آنے والی احمدی نسلوں کے لئے رفتار کے وہ معیار مقرر کر دئے تھے جن پر آج بھی جماعت احمدیہ کی عورتیں اسی دھن کے ساتھ اسی جذبے کے ساتھ اسی ولولے کے ساتھ گامزن ہیں۔جب مسجد نصرت جہاں کو پن ہیگن کی تحریک ہورہی تھی اور عورتیں جس طرح والہانہ طور پر سب کچھ حاضر کر رہی تھیں تو اتفاق سے ایک غیر احمدی عورت بھی وہاں بیٹھی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی اس نے یہ تبصرہ کیا کہ ہم نے لوگوں کو دیوانہ وار پیسے لیتے تو دیکھا ہے لیکن دیوانہ وار پیسے دیتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔یہ آج احمدی عورتوں نے ہمیں بتایا ہے کہ پیسے لیتے ہوئے جوش نہیں ہوا کرتا اصل جوش وہ ہے جو پیسے دیتے وقت خدا کی راہ میں مالی قربانیاں پیش کرتے وقت دکھایا جائے۔یہ وہ زندگی کی علامت ہے اللہ کے فضل کے ساتھ جس نے احمدی خواتین کو سب دنیا میں ممتاز کر دیا ہے۔نائیجیریا میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے تحریک فرمائی تو میں نے بتایا ہے کہ ایک خاتون نے ۳۰/ ۲۵ ہزار پاؤنڈ پیش کئے۔اسی طرح ایک اور خاتون الحاجہ الا رگا نے بھی دس ہزار پاؤنڈ مسجد کے لئے پیش کئے۔امریکہ میں پرانے زمانوں میں بہت غربت تھی یعنی احمدی چونکہ اکثر ایفر وامریکنز میں سے