اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 292

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۹۲ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء عورت کی قربانی کا ذکر فرماتے ہیں۔کہتے ہیں ضعیف تھی چلتے وقت قدم سے قدم نہیں ملتا تھا۔لڑکھڑاتے ہوئے چلتی تھی میرے پاس آئی اور دو روپے میرے ہاتھوں میں تھا دیئے۔زبان پشتو تھی۔اردو اٹک اٹک کے تھوڑا تھوڑا بولتی تھی۔اتنی غریب عورت تھی کہ جماعت کے وظیفہ پر چل رہی تھی۔اس نے اپنی چنی کو ہاتھ لگا کر دکھایا کہ یہ جماعت کی ہے۔اپنی قمیض کو ہاتھ میں پکڑ کر بتایا کہ یہ جماعت کی ہے۔جوتی دکھائی۔یہ بھی جماعت کی ہے اور جو وظیفہ ملتا تھا اس میں سے جو دوروپے تھے وہ بھی کہتی ہے جماعت ہی کے تھے میں نے اپنے لئے اکٹھے بچائے ہوئے تھے۔اب میں یہ جماعت کے حضور پھر پیش کرتی ہوں۔کتنا عظیم جذبہ تھاوہ دوروپے جماعت ہی کے وظیفہ جاری تھا اسی سے بچائے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور ان دو روپے کی عظیم قیمت ہوگی۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں اس نے کہا یہ جوتی دفتر کا ہے میرا قرآن بھی دفتر کا ہے یعنی میرے پاس کچھ نہیں ہے میری ہر ایک چیز بیت المال سے مجھے ملی ہے۔فرماتے ہیں اس کا ایک ایک لفظ ایک طرف تو میرے دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا دوسری طرف میرا دل اس محسن کے احسان کو یاد کر کے جس نے ایک مردہ قوم میں سے ایسی زندہ اور سر سبز روحیں پیدا کر دیں شکر و امتنان کے جذبات سے لبریز ہو رہا تھا اور میرے اندر سے یہ آواز آرہی تھی۔خدایا تیرا مسیحا کس شان کا تھا جس نے ان پٹھانوں کو جو دوسروں کا مال لوٹ لیا کرتے تھے۔ان پٹھانوں کی ایسی کا یا پلٹ دی کہ وہ تیرے دین کے لئے اپنے ملک اور اپنے عزیز اور اپنے مال قربان کر دینے کو ایک نعمت سمجھتے ہیں۔برلن بیت کے ضمن میں فرمایا۔ایک پنجابی بیوہ عورت نے جس کے پاس زیور کے سوا کچھ نہ تھا اپنا ایک زیور بیت کے لئے دے دیا۔ایک اور بیوہ عورت جو ئی یتیم بچوں کو پال رہی تھی اور زیور اور مال میں کچھ بھی پیش کرنے کے لئے موجود نہ تھا۔اپنے استعمال کے برتن چندہ میں دے دئے۔ایک بھاگلپوری دوست کی بیوی دو بکریاں لئے الدار میں پہنچی اور کہا کہ ہمارے گھر میں ان کے سوا اور کوئی چیز نہیں یہی دو بکریاں ہیں جو قبول کی جائیں۔برلن بیت الذکر کے لئے ایک غریب عورت کی قربانی کا یہ ذکر تاریخ احمدیت میں ملتا ہے۔ایک خاتون نے اپناز یور چندہ میں دے دیا تھا۔دوبارہ گئی کہ بعض برتن بھی لا کر حاضر کر دوں۔اس کے خاوند نے کہا تو زیور دے چکی ہے اب برتن بھی لے کے جارہی ہے۔اس کا جواب سنیئے۔اس نے جواب دیا کہ میرے دل میں اس قدر جوش پیدا ہوا ہے کہ اگر خدا اور اس کے دین اور اس کے رسول اللہ