اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 294
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۹۴ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء آئے تھے اور ان کے حالات اس زمانے میں بہت ہی غربت کے حالات تھے تو احمدی خواتین خدمت کر کے اپنی قربانی کی روح کو تسکین دیا کرتی تھیں۔ایک ہماری مخلص احمدی خاتون ہیں وہ کلیولینڈ اوہائیو(OHIO) سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ ہم اتنے غریب تھے اور میرا سارا خاندان اتنا شکستہ حال تھا کہ کچھ بھی ہم خدمت کرنے کے لائق نہیں تھے میں یہ کہا کرتی تھی اپنے خدمت کے جذبے کو تسکین دینے کے لئے کہ جمعہ کے روز علی الصبح مشن ہاؤس جاتی اپنے ساتھ پانی کی بالٹی لے جاتی تھی اور گھر میں بنائے ہوئے صابن کا ٹکڑا اور کپڑا لے جاتی تھی۔یعنی اس زمانے میں امریکہ جیسے ملک میں بھی صابن خریدنے کی توفیق نہیں تھی ان کو۔گھر میں بنایا کرتی تھیں اور پھر جاکے ساری مسجد کو دھوتی ، پالش کرتی اور جمعہ سے پہلے اس لئے واپس آجایا کرتی تھی کہ کسی کو پتہ نہ لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے۔عجب حسین اور ہمیشہ زندہ رہنے والی قربانیاں ہیں۔لیکن بے آواز ہیں اور ہر ملک میں اس قربانی میں احمدی عورتیں برابر شریک ہوئی ہیں۔اب اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی خاتون کے جذ بہ قربانی پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔برا اثر تو کیا جہاں تک قربانی کے عمومی معیار کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ عالمی حیثیت سے احمدی خواتین قربانی میں آگے بڑھی ہیں پیچھے نہیں ہیں۔میں نے اپنے دور میں جو تحریکات کی ہیں ان کے نتیجہ میں میں جانتا ہوں کہ اتنی عظیم الشان قربانیاں احمدی خواتین نے کی ہیں اور اس خاموشی کے ساتھ کیں کہ بعض دفعہ ان کے خط پڑھتے ہوئے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے۔میں دعا کیا کرتا تھا کہ کاش میری اولاد میں بھی ایسی بیٹیاں ہوں جواس شان کے ساتھ اس پیار اور اس محبت کے ساتھ اللہ کے حضور اپنا سب کچھ پیش کر دینے والیاں ہوں۔تو اس زمانے میں مجھے یاد ہے یورپ کے مشنوں کی جب میں نے تحریک کی ہے۔عجیب کیفیت میں دن کئے ہیں۔بعض دفعہ احمدی خواتین کے حالات جانتے ہوئے میں منتیں کیا کرتا تھا کہ آپ یہ نہ کریں۔آپ کی طرف سے میں دے دوں گا لیکن وہ باز نہیں آیا کرتی تھیں۔مجبور کر دیا کرتی تھیں کہ ہمارا حال خدا پر رہنے دو ہم کسی اور سے پیچھے نہیں رہ سکتیں۔بڑے ہی دردناک نظارے ہیں جو آج بھی میری آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو میرے لئے ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور کون دنیا میں کہہ سکتا ہے کہ یہ خواتین پسماندہ خواتین ہیں، بے کار ہیں، گھروں میں بند ہیں۔جو احمدی خواتین اس وقت دنیا کے سامنے مثبت کاموں کے نمونے پیش کر رہی ہیں کوئی دنیا کی دوسری قوم ان کے پاسنگ کو بھی نہیں آتی۔میں چند نمونے آپ کے