اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 168
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۸ تو ہین وہ اپنی یا دتو کر ترکہ میں بانٹی جاتی تھی وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جاتا ہے خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء تو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے ظلموں سے چھڑواتا ہے ان بھیج درود اُس محسن پر تو دن میں سوسو بار پاک محمد مصطفی سب نبیوں کا سردار ( در عدن) بعض اور باتیں بھی عورتوں سے متعلق ایسی ہیں جن میں جب اسلامی تعلیم کے ساتھ دیگر تعلیمات کا موازنہ کریں تو ایک فرق نمایاں آپ کو دکھائی دیتا ہے۔اب روزمرہ کی زندگی میں خدا تعالیٰ نے چونکہ عورت کو بچے پیدا کرنے کے لئے خصوصی اعضاء دیئے ہیں اُن اعضاء کے بعض تقاضے ہیں جن کے نتیجہ میں ماہانہ عورت بعض تکلیف کے ایام میں سے گزرتی ہے۔دنیا کے جتنے مذاہب پر آپ نگاہ ڈالیں گی آپ یہ حیران ہو جائیں گی دیکھ کر کہ ان تکلیف کے ایام کو نجاست کے ایام قرار دیا گیا ہے اور ناپاکی کے ایام قرار دیا گیا ہے اس حد تک کہ بعض مذاہب میں یہ تعلیم ہے کہ اُس عورت کو جوان ایام میں سے گزر رہی ہے یہ بھی حق نہیں کہ کچھ پکا سکے، اُس کے ہاتھ کا چھوا ہوا بھی حرام ہو جاتا ہے، وہ جس جگہ بیٹھتی ہے وہ جگہ ناپاک ہو جاتی ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو یکسر بدل دیا اور جب قرآن کریم میں یہ سوال اُٹھایا گیا کہ: وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے حائضہ عورت کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو اس کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا لا قُلْ هُوَ أَذًى (البقرة : ۲۲۳) یہ تو تکلیف اور بیماری کی ایک حالت ہے اُن سے احتراز کرو۔کن معنوں میں ؟ ان معنوں میں نہیں کہ ان کو نا پاک سمجھو ان معنوں میں کہ اُن پر رحم کرو اور ان کی تکلیف کا احساس کرو۔اس تفسیر کی تصدیق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ حسنہ سے ہوتی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان صلى الله کرتی ہیں کہ خصوصی ایام میں بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ مجھ سے کسی قسم کا جو جسمانی تعلق ہے،