اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 160

17۔خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ( بنی اسرائیل : ۲۴-۲۵) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر تک پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہیں کہنا وَ لَا تَنْهَرْهُمَا ڈانٹنے کا تو سوال ہی پید انہیں ہوتا۔وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا بلکہ عزت کے ساتھ اور تکریم کے ساتھ اُن کو مخاطب کیا کرو۔یہ وہ تعلیم ہے جس کو آج دنیا یکسر بھلا بیٹھی ہے اور وہ بڑے بڑے ممالک جو عورت کی تکریم کے قیام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا معاشرہ اس دعویٰ کو اس کثرت کے ساتھ اور اس دردناک طریق پر جھٹلا رہا ہے کہ آج تک قول وفعل میں انسان نے جو تضاد دکھائے ہیں اس سے بڑھ کر شاید کم ہی کوئی تضاد دنیا کے سامنے ظاہر ہوا ہو۔روز بروز ترقی یافتہ ممالک میں ماں باپ کی عزت کم ہوتی چلی جارہی ہے اور نوجوان نسلیں ان کو اس طرح پھینک دیتی ہیں، بڑھاپے کی عمر میں، جس طرح پرانے کپڑوں کو اتار کر پھینک دیا جاتا ہے۔بعض لوگ اپنے پرانے کپڑوں سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں اور انہیں بھی سنبھال کر رکھتے ہیں لیکن اکثر صورتوں میں آپ کو مغربی ممالک میں یہ ظلم دکھائی دے گا کہ عورت یا مرد دونوں جب بھی بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں تو اُن سے عملاً رشتے منقطع کر لئے جاتے ہیں۔میں نے بارہا اس مضمون کا دوسری جگہ بھی ذکر کیا ہے۔جو خود کشی کے واقعات مغربی دنیا میں آپ کے سامنے آتے ہیں ان میں ایک بڑی تعداد ایسے ماں باپ کی ہے جو محرومی کے احساس سے تنگ آکر خود کشیاں کر لیتے ہیں اور ترستے رہتے ہیں کہ کبھی اُن کے بچے اُن کی طرف نگاہ کریں اور ان کو سوسائٹی کے سپر د یعنی حکومتوں کے سپر د کر کے وہ فراموش کر دیتے ہیں اور سال میں کبھی ایک دفعہ کبھی خوش نصیبی کے ساتھ اُن سے دوبارہ ملتے ہیں۔یہ حالات میں اس لئے نہیں بیان کر رہا کہ مغرب پر تنقید کروں کیونکہ اسلام تو نہ مغرب کا ہے نہ مشرق کا ہے۔ہم بحیثیت احمدی مغرب اور مشرق کی تفریق مٹانے آئے ہیں میں صرف اس لئے یہ بات کھول رہا ہوں کہ جس طرح میں بعض دفعہ مشرقی معاشرہ کی برائیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہوں اور اہل مشرق