اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 159
حضرت خلیفہ مسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۱۵۹ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء لوگ سمجھتے ہیں کہ ہیں ہیں ایسی بات نہیں یہ تو بہت بُری بات ہوگئی ہے، یہ کیا شروع ہو گیا ہے۔عقل کرنی چاہئے ، توازن پیدا کرنا چاہئے تمام دنیا میں ہم نے احمدی عورت کو مقام کو اُس شان کے ساتھ پیش کرنا ہے جس شان کے ساتھ اسلام پیش کرتا ہے اور سوائے ان راہوں کے جہاں کچھی کا خطرہ ہے ہر دوسری راہ پر عورت کو چلنے کا مرد کے ساتھ برابرحق ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس حق کو روک نہیں سکتی۔اگر کوئی اپنی جہالت کی وجہ سے اس حق کو روکنے کی کوشش کرے گا تو عورتیں اس کے خلاف بغاوت کریں گی اور اس بغاوت میں اگر اسلام کو نقصان پہنچا تو وہ روکنے والے بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے لیکن احتیاط کے تقاضے ہیں ان تقاضوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور سوچ سوچ کر قدم اُٹھانے چاہئیں۔عورت کو مقام جو اسلام نے دیئے ہیں وہ اُن تک لازماً پہنچیں گے۔لیکن بعض دفعہ جلدی سے ایسے خطرات درپیش ہوئے ہیں کہ راستہ بھٹک جائے اور انسان حد اعتدال سے تجاوز کر جائے پس اُن احتیاطوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے احمدی عورت کو اپنا وہ مقام لازما حاصل کرنا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے جو خدا تعالیٰ نے اُسے عطا فرمایا ہے۔گزشتہ سال اپنے خطاب میں ، میں اسلام اور عورت کے موضوع پر ، جب آپ سے گفتگو کر رہا تھا تو عورت کو اسلام نے بطور ماں کے کس طرح پیش کیا ہے۔یہ بات چل رہی تھی کہ وقت ختم ہو گیا۔اب جہاں تک مجھے یاد ہے، میں نے کوشش کی ہے کہ وہ حوالے جو میں پہلے آپ کے سامنے پیش کر چکا تھا اُن کی تکرار نہ ہو لیکن اگر کچھ ہو جائے تو میں معذرت خواہ ہوں مگر جہاں میں نے مضمون کو چھوڑا تھا وہیں سے اس کو آج اُٹھانے کی کوشش کروں گا۔قرآن کریم نے عورت کو بحیثیت ماں اس شان کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ ساری کائنات میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔مذاہب کو آپ دیکھ لیجئے معاشروں کو دیکھ لیجئے دنیا بھر میں چھان بین کریں نگاہ دوڑائیں مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا یہی آواز ہے جو ہر دفعہ آپ کو جواب کی صورت میں دل سے اٹھتی ہوئی دکھائی دے گی۔قرآن کریم نے اتنا عظیم الشان ذکر فرمایا ہے ماں کا اور اُس کے مراتب کا اُس کے مقامات کا ،اس کے حقوق کا کہ دنیا میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نہ مذاہب میں اس کی مثال ہے نہ معاشروں میں اس کی مثال ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کا اکٹھا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: