اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 118
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۱۸ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء مختصراً آپ کے سامنے اسلامی تعلیم رکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ دیگر مذاہب میں یعنی اسلام کے سوا جتنے بھی دیگر مذاہب ہیں جہاں تک میں نے اُن پر نظر ڈالی ہے یا تو عورت کے کسی مقام کا ذکر ہی نہیں کرتے اور کلیتہ عورت کے ذکر سے اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔چنانچہ تاؤ ازم کا مطالعہ کر لیجئے، کنفیوشس ازم کا مطالعہ کر لیجئے شنٹو ازم کا مطالعہ کر لیجئے، بدھ ازم کا مطالعہ کر لیجئے کہیں آپ کو عورت کا کوئی ذکر نہیں ملے گا۔بعض ایسے مذاہب ہیں جہاں ذکر ملتا ہے تو اس قدر تذلیل کے ساتھ ، اس قدر قابل شرم طریق پر کہ اگر کوئی باشعور انسان صرف اسی پہلو سے اُس مذہب کو پرکھنا چاہے تو وہ عورت کے متعلق اُس مذہب کی تعلیم کو دیکھ کر مذہب سے بھی متنفر ہو جائے اور خدا کے وجود کا بھی منکر ہو جائے۔ہندو ازم ہے۔اس وقت کسی مذہب پر حملہ کرنا مقصود نہیں مگر یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ ہندو ازم میں عورت کو جو مقام دیا گیا ہے وہ نہ ہی دیا جاتا، ذکر نہ ہی کیا جاتا تو بہتر تھا۔بعض صورتوں میں جانوروں سے بدتر حالت عورت کی مذہبی نقطہ نگاہ سے بیان کی جاتی ہے اور تمام ہندو تاریخ بتاتی ہے کہ مذہبی نقطہ نگاہ سے ایک لمبے عرصے تک اس پر عمل بھی ہوتا رہا۔آج ہندوستان کی حکومت کو بار بار بعض ہندو مذہب کی بد رسوم کے خلاف جہاد کرنا پڑ رہا ہے حالانکہ خود بھی وہ ہندوؤں کی سیکولر حکومت ہے اس لئے میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ پھر یہ موضوع بہت ہی لمبا ہو جائے گا۔صرف اتنا بتانا کافی ہے کہ ہندو مذہب میں عورت کو دید تک پڑھنے کی اجازت نہیں ہے اور کسی قسم کی مذہبی رسوم سوائے مرد کی خدمت کے اور اکیلے بیٹھ کر پوجا پاٹ کرنے کے وہ سرانجام نہیں دے سکتی۔جہاں تک بائیبل کا تعلق ہے بائیبل عورت کو مذہب میں دخل اندازی کرنے سے روکتی ہے۔( کرنتھیوں باب ۱۴ آیت ۳۴-۳۵) اس کے حوالے بعد میں چھپ جائیں گے مضمون کے ساتھ انجیل میں بھی کلیسا میں عورت کو خاموش رہنے کا حکم ہے اور یہ واضح حکم ہے کہ عورت اگر کلیسا میں کوئی سوال پوچھے یا لوگوں کی موجودگی میں کوئی سوال پوچھے تو اس کے لئے قابل شرم ہے۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اسلام میں عورتوں کو اجتماعی عبادات میں شمولیت کی نہ صرف ممانعت نہیں بلکہ برابر کا حق دیتے ہوئے سہولتیں دی گئی ہیں۔یعنی کسی بھی اجتماعی عبادت سے عورت کو روکا تو نہیں گیا لیکن اس کی خلقت کے اعتبار سے اس کے اوپر ایسا بوجھ نہیں ڈالا گیا کہ ہر عبادت میں شمولیت اس پر لازم ہو جائے۔مثلاً پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنا مردوں پر تو لازم ہے جو اس قابل ہوں کہ پہنچ سکیں لیکن عورتوں پر لازم قرار نہیں دیا گیا کیونکہ انہوں نے بچوں کی پرورش کرنی ہوتی ہے اور ایسی ضروریات ہوتی ہیں گھر یلو اور بعض ایسے