اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 119
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات 119 خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء شرعی عذر پیش آجاتے ہیں کہ ان کیلئے یہ تکلیف مالا بطاق، یعنی طاقت سے بڑھ کر تکلیف ثابت ہوتی لیکن آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بکثرت اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ خواتین نہ صرف مسجدوں میں جا کر نمازیں پڑھتی تھیں بلکہ تہجد کے وقت بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ بعض خواتین کا خود آپ کی از وارج مبارکہ کا شامل ہونا ثابت ہے۔جہاں تک جہاد کی فرضیت کا تعلق ہے اُس میں بھی بالکل اسی قسم کا سلوک کیا گیا ہے یعنی جہاد میں شمولیت سے عورت کو منع نہیں فرمایا گیا لیکن جہاد میں شمولیت سے اس کو اس رنگ میں مستثنیٰ کر دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے شوق سے تو بے شک شامل ہو جائے ورنہ اس پر جہاد میں شمولیت ضروری نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ سے ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا جہاد عورتوں پر فرض نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہے لیکن ان کا جہاد جنگ کا جہاد نہیں ہے بلکہ حج اور عمرہ اور دیگر اس قسم کی نیکیوں میں شمولیت ہی عورت کا جہاد بن جاتا ہے۔تو یاد رکھیں کہ جہاد میں شامل ہونا یعنی قتال میں شامل ہونا عورت پر فرض قرار نہیں دیا لیکن اس کا ثواب اس پر لازم کر دیا اور جب کہ ایک مرد حج ادا کرتا ہے تو اسے حج ہی کا ثواب ملتا ہے مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کہ جب عورت حج کرتی ہے یا عمرہ کرتی ہے تو اسے جہاد کا بھی ثواب ملتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، ابواب المناسک۔باب الج جہاد النساء) اس تعلیم میں بھی گہری حکمت ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی کلام بھی گہری حکمت سے خالی نہیں ہوتا تھا۔اس موقع پر نماز کو جہاد کا قائم مقام نہیں فرمایا روزہ کو جہاد کا قائمقام نہیں فرمایا بلکہ واضح طور پر حج اور عمرہ کو جہاد کا قائمقام فرمایا ہے اور اس کے لئے جو جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔عورت کو خود نکل کر حج میں شمولیت کے لئے جانا بذات خود ایک کا بردارد ہے اور عورت کی جو ذمہ داریاں ہیں اور عورت کو جس قسم کے خطرات درپیش ہوتے ہیں سفر میں ظاہر ہے کہ مرد کو ویسے نہیں ہوتے اسلئے خصوصیت کے ساتھ آنحضرت کا حج اور عمرہ کو جہاد کا قائمقام قرار دینا بہت ہی لطیف بات ہے اور اس تعلیم میں آنحضرت نے بعض اور وں کو شامل کر کے اس حکمت پر مزید روشنی ڈال دی۔ایک موقع پر فرمایا بوڑھے ، بچے ، کمزور اور عورت کے لئے حج اور عمرہ ہی جہاد ہے۔(سنن نسائی کتاب المناسک الحج۔باب فضل الحج ) اس مضمون کی حکمت بھی اس سے سمجھ آگئی اور عورت کا جو مقام ہے اس کو بھی مزید عظمت ملی اور تقویت ملی کیونکہ آپ جانتے ہیں بچپن میں جب ہم کھیلا کرتے تھے ، آپ بھی کھیلا کرتی تھیں تو جس کی کچی مٹی ہو اس کو بڑی شرم آیا کرتی تھی اگر کسی بچے کو کہا جائے کہ تم بھی ساتھ کھیلو مگر تم پر فرض نہیں ہے یہ