اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 117
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات 112 خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء اسلام میں عورت کا مقام (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرموده ۲۳ / جولائی ۱۹۸۸ء) تشہد ، تعوذ ، سورۃ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی: وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا اور فرمایا: (النساء : ۱۲۵) ترجمہ : اور جو لوگ خواہ مرد ہوں یا عورتیں مومن ہونے کی حالت میں نیک کام کریں گے تو جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے سوراخ کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔گزشتہ دوسال سے میں اسلام میں عورت کے مقام کے موضوع پر آپ سے خطاب کر رہا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ امسال انشاء اللہ اس مضمون کو ختم کر دیں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ آج کا دن ایک اور تقریر کا بھی دن ہوتا ہے اور اس لئے اس تقریر کو اگر انسان کھینچ کر لمبا کرنا بھی چاہے تو بعد کی تقریر اس کی اجازت نہیں دیتی۔بہر حال مختصراً آپ کو یاد کرا تا ہوں کہ گزشتہ سال اس موضوع پر کہ اسلام عورت کو مذہب میں ایک خاص مقام دیتا ہے اور اس سے کوئی نا انصافی نہیں کرتا کسی حد تک میں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور جہاں تک مجھے یاد ہے یہ بتایا تھا کہ اگر عورت نبی نہیں بن سکتی تو یہ اس سے نا انصافی نہیں ہے بلکہ اس کی خلقت کے تقاضوں کے پیش نظر ایسا ضروری تھا اور طاقت سے بڑھ کر اس پر بوجھ ڈالنے سے اسے بچایا گیا ہے۔اب میں بالعموم عورت اور مذہب کے موضوع پر