نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 5 of 40

نزولِ مسیح — Page 5

مذکور ہوں سادہ تشبیہہ کہلاتی ہے۔لیکن مجاز میں اگر مشبہ (مثلا زید) کا ذکر نہ ہو اور حرف تشبیہہ بھی موجود نہ ہو بلکہ صرف مشبه به اسد (شیر) کا ذکر کر کے اس سے مشبہ یعنی زید مراد لیا جائے اور کوئی قرینہ لفظیہ یا قرینہ حالیہ کلام میں اسد کے مجازی معنوں کے لئے قائم ہو تو ایسی مخصوص صورت کی تشبیہہ کو استعارہ کہتے ہیں۔جیسے میں اگر زید کو شیر سے بطور استعارہ تشبیہہ دینا چاہوں تو کہوں کہ "ہمارا شیر غسلخانہ میں غسل کر رہا ہے۔اس فقرہ میں نہ زید (مشبہ) کا ذکر لفظ کیا گیا ہے اور نہ ہی حرف تشبیہہ استعمال کیا گیا ہے۔بلکہ قرینہ سے زید کا شیر ہونا مراد لیا گیا ہے اور بوجہ استعارہ زید کے متعلق یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ شیر ہی ہے۔اس مثال سے ظاہر ہے کہ استعارہ کی صورت میں زید کے لئے اس فقرہ میں بہادری میں کمال رکھنے کا دعوی کیا گیا ہے۔اس جگہ الفاظ غسلطانہ میں غسل کر رہا ہے۔" اس بات کے لئے قرینہ ہے کہ شیر سے مراد کوئی انسان ہے اور استعارہ کی بناء پر اس کے لئے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ بہادری میں شیر سے کوئی معمولی مشابہت نہیں رکھتا بلکہ کامل مشابہت رکھتا ہے۔خالی تشبیہہ میں مشابہت تو ضرور مقصود ہوتی ہے مگر اس میں کمال کا ادعا نہیں ہوتا۔احادیث میں مثیل کا لفظ استعمال نہ کرنے کی وجہ پس اس جگہ یہ سوال پیدا نہیں ہو سکتا کہ اگر نزول ابن مریم کی پیشگوئی میں حضرت عیسی علیہ السلام کا احسان آنا مراد نہیں تھا تو کیوں پیشگوئی میں مثیل ابن مریم کے الفاظ نہیں رکھے گئے۔بلکہ صرف " ابن مریم " کے نزول کے الفاظ رکھے گئے ہیں؟ یہ سوال اس لئے پیدا نہیں ہو سکتا کہ استعارہ کی زبان میں حرف تشبیہہ جیسے " مثل " اور مانند " وغیرہ بالکل استعمال نہیں ہوتے۔دیکھئے قرآن مجید میں آتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هذةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلاً (بنی اسرائیل: (۷۳) یعنی جو