نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 4 of 40

نزولِ مسیح — Page 4

الہام سوم یہ ہے۔ثُمَّ أَحْيَيْنَاكَ بَعْدَ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الأولى وَجَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۴ ابْنُ مَرْيَمَ" یعنی ہم نے تجھے پہلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد زندگی دی ہے اور تجھے مسیح ابن مریم بنایا ہے۔ان الهامات کا ماحصل یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور وعدہ کے موافق حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کو مسیح ابن مریم بنا کر بھیجا گیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت عیسی علیہ السلام کے قدم پر آئے ہیں اور ان کے رنگ میں رنگین ہیں۔گویا ان العلامات نے نزول المسیح کی پیشگوئی کو حل کر دیا۔اور اس بارہ میں یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب حضرت مسیح ابن مریم کے مثیل اور بروز ہیں۔کیونکہ جو شخص کسی کے قدم پر آئے اور اس کے رنگ میں ہو کر آئے وہ اس کا مثیل اور بروزی ہوتا ہے۔احباب کرام! ان الہامات سے ظاہر ہو گیا ہے کہ ان میں آپ کو مجاز اور استعارہ کے طور پر ابن مریم قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ جب حقیقی ابن مریم وفات پاچکے ہیں اور اس وجہ سے ان کا اصالتا دوبارہ آنا محال ہے لہذا ان کی دوبارہ آمد کا محال ہونا پیشگوئی میں ابن مریم کے نزول کو مجاز اور استعارہ ثابت کرنے کے لئے قلعی قرینہ ہے۔استعارہ بھی مجاز کی ایک قسم ہوتا ہے۔مجاز کی استعارہ اور تشبیہہ میں فرق ایک قسم سارہ تشبیہہ ہے جیسے زَيْدُ كَا لا سَدِ یعنی زید شیر کی مانند ہے اس قسم مجاز میں زید مشبہ ہے یعنی اسے شیر سے مشابہت دی گئی ہے اور اسد (شیر) مشبہ بہ ہے جس سے زید کو تشبیہہ دی گئی ہے اور ی (معنی مانند) حرف تشبیہہ ہے۔مجاز کی ایسی قسم جس میں مشبہ اور مشبہ بہ اور حروف تشبیہہ تینوں