نزولِ مسیح — Page 6
شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا اور راستہ سے بہت بھٹکا ہوا ہو گا۔اس آیت میں آغمی (اندھا) سے مراد روحانی بصیرت سے محروم انسان ہے جسے ظاہری اعمی (نابینا) سے بطور استعارہ تشبیہہ دی گئی ہے اور اعلی کو استعارہ قرار دینے کے لئے حرف تشبیہہ ترک کر دیا گیا ہے اور أَضَلُّ سَبِيلاً ( راستہ سے بہت بھٹکا ہوا) کے الفاظ اعمی کے لفظ کے استعارہ کے طور پر استعمال ہونے کے لئے بطور قرینہ لائے گئے ہیں۔یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ استعارہ میں دو قسم کے قرائن ہوتے ہیں۔اقسام قرائن اول یہ کہ استعارہ میں کوئی لفظی قرینہ قائم کیا جاتا ہے۔جیسے "ہمارا شیر غسل خانہ میں غسل کر رہا ہے۔" کے استعارہ میں غسل خانہ میں غسل کر رہا ہے" استعارہ کو ظاہر کرنے کے لئے لفظی قرینہ ہے۔دوم یہ کہ اگر لفظی قرینہ قائم نہ کیا جائے تو پھر استعارہ کے لئے قرینہ حالیہ کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔تا حقیقی معنی کا احتمال اٹھ جائے اور صرف مجاز مراد لیا جا سکے۔قرینہ حالیہ سے مراد یہ ہے کہ جس کو ہم کوئی نام بطور وصف دے رہے ہیں اس کا در حقیقت وہ نام نہ ہو۔جیسے میں زید کو حاتم کا نام دوں تو اس جگہ قرینہ حالیہ زید کا حقیقتاً حاتم نہ ہونا ہو گا اور استعارہ حاتم کے وصف سخاوت میں ہو گا نہ کہ علم (ذاتی نام) میں۔کیونکہ علم اگر استعارہ کی زبان میں استعمال ہو تو اس علم کے کسی خاص وصف میں استعارہ مراد ہوتا ہے۔پس مشبہ کے لئے حقیقی معنی کا محال ہونا قرینہ حالیہ ہوتا ہے۔اسی طرح اگر میں زید کے لئے جو سامنے سے آ رہا ہو کہوں " وہ دیکھو! ہمارا شیر آ رہا ہے" تو چونکہ سامنے سے آنے والے زید کا حقیقت میں شیر ہونا امر محال ہے اس لئے اس بات کا محال ہو نا استعارہ کے لئے قرینہ حالیہ ہو گا۔