نزولِ مسیح — Page 24
مَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ تَفَعَهُ اللهِ إِلَيْهِ کے الفاظ وارد ہیں جن کا مطلب حیات مسیح کے کا سکین یہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خدا تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔یعنی زندہ مع جسم و روح کے آسمان پر اٹھا لیا۔واضح ہو کہ اس آیت میں بے شک یہ تو دلیل کی تردید اور ایک ضروری نکتہ آیا ہے کہ خدا تعالٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا مگر یہ نہیں آیا کہ خدا تعالٰی نے انہیں آسمان پر اٹھالیا۔اس آیت میں جسمانی رفع مراد لینے میں کئی قباحتیں ہیں جو یہ ہیں۔اول یہ کہ ان معنوں سے خدا تعالیٰ کا محدود المکان ہونا لازم آتا ہے کیونکہ رفع جسمانی صرف ایسی دو چیزوں میں ہی محصور ہو سکتا ہے جو دونوں ہی محدود المکان ہوں اور دونوں کے مکانوں کے درمیان ایک فاصلہ ہو۔جو اٹھایا جانے سے طے ہو۔مثلاً میری یہ عینک میز پر پڑی ہے۔میں اسے اٹھا کر آنکھوں پر لگاتا ہوں تو اس اٹھا کر لگانے میں کئی فٹ کا فاصلہ طے ہوا ہے۔یہ ٹینک بھی محدود المکان تھی اور میری آنکھیں بھی محدود المکان ہیں۔چونکہ خدا تعالیٰ کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ خود محدود المکان ہو اور خدا کی طرف رفع جسمانی کے معنے چونکہ خدا تعالیٰ کے محدود المکان ہونے کو چاہتے ہیں اور خدا تعالی کا محدود المکان ہونا محال ہے لہذا خدا کی طرف رفع جسمانی محال ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔دوم یہ کہ عربی زبان میں رفع الی اللہ کے معنی استعارة قرب منزلت ، درجہ کی بلندی یا با عزت وفات پا کر خدا کی حضوری پانا ہی ہوتے ہیں۔یہ قرب و حضوری فاصلہ سے تعلق نہیں رکھتی۔درجات کی بلندی سے تعلق رکھتی ہے۔بحوالہ ابن مردویہ بہتی حضرت انسؓ سے مروی ہے۔