نزولِ مسیح — Page 25
۲۵ اَكْرَمَ اللهُ نَبِيَّة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُ فِي أُمَّتِهِ مَا يَكْرَهُ فَرَفَعَهُ إِلَيْهِ وَبَقِيَتِ الثَّقَمَةُ (بحوالہ کیل المونی صفحه ۲۸ مولوی عنایت الله و زیر آبادی) یعنی خدا تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کی وجہ سے رویا میں آپ کو آپ کی امت میں واقع ہونے والی وہ بات دکھا دی جسے آپ نا پسند کرتے تھے تو (پھر) آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔(یعنی باعزت وفات دے دی) اور فتنہ اور عذاب باقی رہ گیا۔فَرَفَعَTAKANGLA اس جگہ حضرت انسؓ فَرَفَعَهُ إِلَيْهِ کے الفاظ آنحضرت میال کے لئے "خدا تعالٰی نے آپ کو باعزت وفات دی" کے معنوں میں استعمال فرما رہے ہیں۔اسی طرح یہ لفظ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بھی باعزت وفات کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کیونکہ یہودی آپ کو مصلوب کر کے بموجب تورات لعنتی ثابت کرنا چاہتے تھے۔خدا تعالی نے فرمایا۔وہ آپ کو قتل نہیں کر سکے۔یعنی صلیب پر نہیں مار سکے بلکہ خدا تعالی نے آپ کو صلیب کی لعنتی موت سے بچا کر باعزت وفات دی ہے۔اس جگہ یہ نکتہ احباب کرام کے یاد رکھنے کے قابل ہے کہ توفی کے معنی ایک نکتہ طبعی موت کے ہوتے ہیں جو باعزت بھی ہو سکتی ہے اور بے عزتی کی حالت میں بھی۔رفع والی موت ہمیشہ باعزت موت ہوتی ہے خواہ طبعی ہو یا غیر طبعی۔قرآن مجید میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔مَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَالله خَيْرُ الْمَاكِرِينَ إِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيسَى إِنَّن مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (آل عمران:۵۵-۵۶)