نزولِ مسیح — Page 18
IA دوبارہ آئے ہوں تو ان کا كُنتَ أنتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمْ کرنا جھوٹ بن جاتا ہے۔اس صورت میں ان کی طرف سے یوں واقعاتی شہادت پیش کی جاتی جس سے ان کی کامل برات ہو جاتی کہ جب قوم میں دوبارہ واپس جانے پر میں نے انہیں بگڑا ہوا پایا۔اور ان کی اصلاح کی تو پھر مجھ پر یہ الزام کیسے عائد ہو سکتا ہے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود مانو؟ وہ لوگ جو حیات مسیح کے قائل ہیں انہوں حیات مسیح کے قائلین کی تاویل نے اس آیت کے الفاظ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی یہ تاویل کی ہے کہ توفی سے اس جگہ زندہ کا مع روح و جسم پورے کا پورا لے لینا مراد ہے۔چنانچہ مولوی ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن جلد اول میں اس کے معنی "جب تو نے مجھے واپس بلا لیا۔کئے ہیں اور مراد یہ لی ہے کہ یہودیوں کی ان سے بدسلوکی اور ان کے قتل کے درپے ہونے کی وجہ سے خدا تعالی نے ناراض ہو کر انہیں اپنے منصب سے ہٹا کر واپس بلا لیا۔مگر اس قسم کے اصحاب نے غور نہیں فرمایا کہ یہ سوال و جواب جب اللہ تعالی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے درمیان قیامت کے دن ہو گا تو اگر توفی کے معنی اس جگہ موت کے نہیں بلکہ زندہ واپس لے لینے کے ہیں تو پھر از روئے آیت ہزارہ قیامت کے دن تک زندہ ہی رہیں گے کیونکہ اس توفی کا دامن قیامت تک ممتد ہے اور اس سے واپسی پر دوبارہ قوم میں کسی کام پر مقرر ہونے سے حضرت عیسی علیہ السلام كُنتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ کہہ کر انکار کر رہے ہیں۔کیونکہ كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمْ کے الفاظ ان کی عدم واپسی اور قوم کی حالت سے قیامت کے دن تک مشاہداتی علم کے لحاظ سے ناواقفی پر دلالت کر رہے ہیں اگر مودودی صاحب کے معنی لئے جائیں تو پھر تو وہ قیامت تک زندہ ہی رہیں گے اور خدا تعالیٰ کے قانون كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ