نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 19 of 40

نزولِ مسیح — Page 19

14 (آل عمران: ۱۸۶) سے بچے رہیں گے۔کیونکہ خدا کی طرف سے مفروض واپسی والی توفی کے بعد ان کی قوم میں دوبارہ واپسی کا ذکر موجود نہیں بلکہ اس کے بر خلاف محنت اَنْتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمُ میں ان کی عدم واپسی کا اظہار کیا گیا ہے۔پس تَوَفَّيْتَنِی کو وفات طبعی کے معنی سے پھرانا اور اس لفظ کی اس جگہ منصب سے واپس لے لینے کی تاویل یا پورے کا پورا مع روح و جسم اٹھا لینے کے معنی لاحاصل ہیں کیونکہ اگر وہ زندہ ہی اٹھالیے گئے ہوں یا زندہ ہی واپس بلا لئے گئے ہوں تو ان کی قوم میں دوبارہ واپسی کا كُنت أنْتَ الرَّANGELKA KO میں انکار کر دیا گیا ہے۔جب اس جواب میں ان کی قوم میں دوبارہ واپسی سے انکار ظاہر ہے تو انہیں كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کے قانون سے باہر رکھنے اور قیامت تک زندہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔پس كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ کے الفاظ اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی توفی وفات کی صورت میں ہی ہوئی ہے نہ کسی اور طرح۔حدیث نبوی بھی توفی کے اس آیت میں وفات کے معنوں کی ہی مؤید ہے۔چنانچہ صحیح بخاری کتاب التفسیر میں امام بخاری علیہ الرحمتہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بيان و كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أنتَ الرقيب عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ کی تفسیر میں ایک حدیث نبوی لائے ہیں۔جس میں آنحضرت میں ای میل فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کچھ لوگ گرفتار ہونگے تو میں کہوں گا یہ تو میرے دوست ہیں۔مجھے جواب دیا جائے گا۔إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوْ مُرْتَدِيْنَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَ قَتَهُمْ یعنی بے شک اے نبی تو نہیں جانتا کہ تیرے بعد انہوں نے کیا بدعات اختیار کیں۔یقینا یہ لوگ جب تو ان سے جدا ہوا اپنی اپنی ایڑیوں پر واپس پھر گئے تھے۔یعنی مرتد ہو گئے تھے۔آنحضرت می یہ فرماتے ہیں:۔