نزولِ مسیح — Page 17
12 رہا۔پس جب (اے خدا) تو نے مجھے وفات دے دی تو ان پر تو ہی نگران تھا۔یعنی وفات کے بعد تو مجھے پھر ان کی نگرانی کا موقعہ ہی نہیں ملا۔لہذا مجھ پر ان کے بگاڑ کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔كُنْتَ أنتَ میں ضمیر انت كا دو دفعہ آنا تاکید للحصر کا فائدہ دے رہا ہے۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کہیں گے میری وفات کے بعد تو ہی نگران تھا تو مجھے ان کے بگاڑ کا مشاہداتی علم کیسے ہو سکتا ہے؟ قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کے اس جواب سے ظاہر ہے کہ ان کی قوم میں بگاڑ ان کی توفی یا وفات کے بعد ہوا ہے اور وفات کے ساتھ ہی وہ قوم کو خدا کی نگرانی میں چھوڑ گئے اور پھر قیامت کے دن تک انہیں قوم میں دوبارہ آکر اصلاح کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ہو گا اور اپنی قوم کے بگاڑ کے متعلق انہیں کوئی مشاہداتی علم نہیں ہو گا۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو توفی کے بعد اصالتاً قوم میں دوبارہ آکر اصلاح کرنے کا موقعہ ملے تو پھر وہ خدا کے حضور یہ نہیں کہہ سکتے کہ میری توفی کے بعد ان کا تو ہی نگران تھا۔بلکہ اس کی بجائے یہ جواب دیتے کہ جب تو نے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا تو میں نے ان کی اصلاح کی۔ان میں توحید کا عقیدہ بھی قائم کر دیا اور ان کے صلیبی عقیدہ کو بھی پاش پاش کر دیا۔ان کی دوبارہ آمد کی صورت میں تو ان کا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے بعد كُنْتَ اَنْتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِمُ کہنا جھوٹ بن جاتا ہے کہ مجھے پھر ان کی نگرانی کا موقعہ نہیں ملا۔لہذا ان کے بگاڑ کے متعلق میں مشاہداتی علم نہیں رکھتا۔كُنتَ اَنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ کے الفاظ تو اسی بات کو مستلزم ہیں کہ آپ کو قیامت کے دن تک قوم میں دوبارہ آنے کا موقعہ ہی نہیں ملا ہو گا۔خدا تعالیٰ کے انبیاء معصوم ہوتے ہیں وہ اپنی برأت میں کوئی جھوٹا بیان نہیں دے سکتے۔پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام قوم میں