نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 305
عظیم الشان گواہ رب کی طرف سے اور پہلے سے کتاب موسٰی بھی ایک بڑاامام اور رحمت ہے وہ تو ایمان لاتے ہیں۔پھر اشارہ فرمایا ہے کہ جب عر ب کی اقوام واحزاب چڑھائی کریںگے تو اس کا خمیازہ دیکھیں گے۔اس قصہ کی تفصیل سورہ احزاب میںکی ہے۔پھر کلمہ طیّبہ(ھود :۲۱) میں بتایا کہ یہ مخالف منکر تم کواس زمین عرب میں عاجز کرنے والے نہ ہوئے۔پھر مؤمنین کو بشارت دی ہے کہ یہ جنت والے ہیںاسی واسطے صحابہ کرام اس جنت کے بھی وارث ہوئے جس کاوعدہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا اور اس جنت عدن کے بھی وارث ہوئے جس کو تو ریت نے اور مسلم کی حدیث میں جنت عدن فرمایا اور اس کے بھی جس کا فرعون فخر کرتا ہے۔(الزخرف:۵۲) بلکہ اس سورن کی زمین کی بھی جس کو دیانند سونے کی زمین کہتا ہے۔اسی سے ہم کو کامل یقین ہو گیا ہے کہ بعد الموت روضہ ریا ض جنت کے بھی مالک ہو ں گے اور بعد الحشر اس کامل الجنۃ کے وارث بھی ضرور ہوں گے جن کی یہ آرام گاہیں مثل ہیں۔پھر بتایا ہے کہ ان صداقتوں سے تم بے خبر ہو ہماری تمہاری مثل حق سے اندھے اور حق کے بینا۔اور بہرے اور حق کے شنوا کی مثل ہے پھر نوح علیہ السلام کا قصہ بیا ن کیا ہے کیونکہ نوح ؑ رسول اللہ تھے اور ان کے مخالف حق کے دشمن رسول کے مخالف تھے اور قرآن کریم میں ارشاد ہے۔(یوسف :۱۱۲) اس عبرت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس طرح نوح رسول اللہ کامیاب ہوئے اور ان کے منکر مخالف ناکام رہے مخالفوں کا بیڑا آخر غرق ہوا اسی طرح میرے مخالفو! تمہارا حال ہوگا۔پھر آخری قصہ حضرت نوح ؑ پر فرمایا ہے۔ (ہود:۵۰)